YDA Balochistan

YDA Balochistan A Struggle to Restore The Dignity Of Doctors. A Forum To Raise Voice For our Rights. A Unity To Stand Against Every Evil. Doctor's Dignity at First.

United We Stand,Long Live YDA � Advocating For the Rights and Dignity of Doctors and Walfare of Patients.

پریس ریلیز19 مئی 2026 سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری مسترد کرتے ہیں — حکومت واضح پالیسی پیش کرے- ترجمانکوئٹہ: صوبائی حکومت کی...
19/05/2026

پریس ریلیز
19 مئی 2026

سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری مسترد کرتے ہیں — حکومت واضح پالیسی پیش کرے- ترجمان

کوئٹہ: صوبائی حکومت کی جانب سے باچا خان ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلانے کی تجویز کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔

کوئٹہ: حکومت بلوچستان محکمہ صحت کی پالیسیاں مرتب کرنے میں واضح طور پر تذبذب کا شکار دکھائی دے رہی ہے

کوئٹہ: صوبے میں اس وقت سرکاری ہسپتالوں کا نظام چلانے کیلئے حکومت متعدد پالیسیاں اپنائی ہوئی ہے ، جو مریضوں اور ہیلتھ سے منسلک ملازمین کیلئے مشکلات کا سبب بن رہا ہے،

کوئٹہ: حکومت ایک ہی وقت میں ہسپتالوں کو چلانے کیلئے مکمل سرکاری ، سیمی اٹانمس ، اٹانمس اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے مختلف پالیسیاں اپنائی ہوئی ہے ، اس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ محکمہ صحت کو چلانے کیلئے حکومتی سطح پر پالیسی کا فقدان ہے

ساتھ ہی حکومت ٹراما سینٹر کوئٹہ اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (BICVD) جیسے بڑے منصوبوں پر سالانہ 6 ارب روپے یا اس سے زائد اخراجات برداشت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اسے اٹانمس باڈیز کے طرز پر گرانٹ ان ایڈ دے کر چلانے کا منصوبہ رکھتی ہے

تاہم اسی حکومت کی جانب سے کوئٹہ شہر کے وسط میں اربوں روپے کی لاگت سے نو تعمیر شدہ باچا خان ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت نجی تحویل میں دینے کی کوشش واضح تضاد اور غیر واضح پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

حکومت کی جانب سے اوّل تو یہ مؤقف پیش کیا جا رہا تھا کہ دور دراز علاقوں میں محکمے کی رسائی ممکن نہیں اور اسٹاف کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں، اس لیے وہاں نجکاری اپنایا جا رہا ہے۔ لیکن اب شہر کے مرکزی علاقے میں قائم باچا خان ہسپتال کو بھی نجکاری کے تحت چلانے کی کوشش اس دلیل کو کمزور اور غیر منطقی بناتی ہے۔

حکومت کا ایک ہی وقت میں ہسپتالوں کو چلانے کیلئے متعدد مختلف نوعیت کی پالیسیاں اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے کوئی جامع اور مستقل حکمت عملی موجود نہیں۔ سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں نجکاری کی طرف دھکیلنا مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کو جنم دے گا۔

حکومت بلوچستان محکمہ صحت کے حوالے سے اپنے فیصلوں کو واضح کر دیں بصورت دیگر، اس قسم کے عوام اور ملازم دشمن پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے گی اور سخت احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

ترجمان
ڈاکٹر ثناءاللہ بلوچ
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

مرکزی بیان18 مئی 2026ڈین پی جی ایم آئی ڈاکٹر نور احمد کھوسہ سے ڈاکٹر حئی بلوچ، پریزیڈنٹ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ...
18/05/2026

مرکزی بیان
18 مئی 2026

ڈین پی جی ایم آئی ڈاکٹر نور احمد کھوسہ سے ڈاکٹر حئی بلوچ، پریزیڈنٹ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے تفصیلی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو درپیش مسائل پر جامع گفتگو کی گئی۔ وفد نے بالخصوص تعلیمی ماحول کی بہتری پر زور دیتے ہوئے لائبریری کی فوری رینوویشن کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

ڈین پی جی ایم آئی ڈاکٹر نور احمد کھوسہ نے تمام مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

پریس ریلیز17 مئی 2026 حکومت بلوچستان ڈاکٹروں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو فوری طور پر پورا کرے، لیڈی میڈیکل افیسرز اور ڈینٹل...
17/05/2026

پریس ریلیز
17 مئی 2026

حکومت بلوچستان ڈاکٹروں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو فوری طور پر پورا کرے، لیڈی میڈیکل افیسرز اور ڈینٹل سرجنز کے لیے نئی آسامیوں کی تخلیق کر کے انہیں پبلک سروس کمیشن کو ارسال کیا جائے، پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کا اسٹائپنڈ میڈیکل آفیسرز کے برابر کیا جائے اور ہاسٹل سہولیات کے لیے بجٹ مختص کر کے ڈاکٹروں کے دیرینہ مسائل حل کیے جائیں — ترجمان

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس زیرِ صدارت ڈاکٹر حئی بلوچ، صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کے ڈاکٹروں کو درپیش مسائل، حکومتی وعدوں اور ان پر عملدرآمد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹروں کے مسائل کے حل اور بھرتیوں کے حوالے سے کیے گئے وعدے تاحال مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ خصوصاً لیڈی میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجنز کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نئی آسامیوں کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں قابل اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز بے روزگاری کا شکار ہیں۔ اجلاس میں محکمہ صحت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر نئی آسامیوں کی منظوری دے کر انہیں پبلک سروس کمیشن کو ارسال کیا جائے تاکہ میرٹ پر شفاف بھرتیوں کا عمل شروع ہو سکے۔

مزید برآں، اجلاس میں پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے اسٹائپنڈ کو ایک اہم اور دیرینہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ بجٹ میں اسے فوری طور پر میڈیکل آفیسرز کے برابر کیا جائے تاکہ تمام ڈاکٹروں کے درمیان برابری اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور وہ مالی دباؤ سے نکل کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔

اجلاس میں ڈاکٹروں کے لیے ہاسٹل سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ماضی میں اس بنیادی ضرورت کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے، جس کے باعث ڈاکٹرز کو شدید رہائشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے مطابق رواں مالی سال کے بجٹ میں ہاسٹلز کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص نہ کیے گئے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے ڈاکٹرز کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے حکومت کو خبردار کیا کہ ڈاکٹروں کو مسلسل نظر انداز کرنے اور انہیں دیوار سے لگانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، بصورت دیگر تنظیم اپنے حقوق کے حصول کے لیے سخت اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ڈاکٹروں کے حقوق کے تحفظ، حکومت کے کیے گئے وعدوں کی تکمیل اور صوبے میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

پریس ریلیز16 مئی 2026پروفیسر غمخوار حیات کا قتل — بلوچستان میں علم و دانش پر حملہ ہے_ ترجمانینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچس...
16/05/2026

پریس ریلیز
16 مئی 2026

پروفیسر غمخوار حیات کا قتل — بلوچستان میں علم و دانش پر حملہ ہے_ ترجمان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان پروفیسر غمخوار حیات کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک قابلِ احترام استاد کا قتل ہے بلکہ بلوچستان میں علم، تحقیق اور فکری آزادی پر ایک گہرا اور افسوسناک حملہ ہے۔

پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے ایک ممتاز استاد، ادیب اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم، تدریس اور مادری زبان کی ترویج کے لیے وقف کی۔ ان کی علمی و ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ ان کا اس طرح بے دردی سے قتل ہونا پورے تعلیمی و فکری حلقے کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔

بلوچستان میں ڈاکٹرز ، اساتذہ، دانشور، دیگر علمی و فکری شخصیات کو مسلسل نشانہ بنایا جانا ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک رجحان ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشرتی بے چینی کو بڑھا رہی ہے بلکہ تعلیمی ترقی اور فکری آزادی کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس امر پر زور دیتی ہے کہ علم و قلم سے وابستہ شخصیات پر حملے درحقیقت پورے معاشرے کے مستقبل پر حملہ ہیں، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ہم حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندان، علمی برادری اور طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ علم، قلم اور انسانیت کے خلاف ہر قسم کے تشدد کی بھرپور مذمت جاری رہے گی۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے نو منتخب ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اپنی ...
15/05/2026

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے نو منتخب ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں اور عزم کے ساتھ تنظیم کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائیں گے۔

ایک منظم اور مضبوط تنظیم ہی ڈاکٹرز کمیونٹی کے مسائل کے مؤثر حل کی ضمانت ہوتی ہے۔ ہم پُرعزم ہیں کہ اتحاد اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے ڈاکٹرز کے حقوق کے تحفظ اور بہتری کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں
گے۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

14 مئی 2026ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی مرکزی کابینہ نے پریزیڈنٹ ڈاکٹر حئی بلوچ  کی قیادت میں , میڈیکل سپرنٹنڈنٹ س...
14/05/2026

14 مئی 2026

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی مرکزی کابینہ نے پریزیڈنٹ ڈاکٹر حئی بلوچ کی قیادت میں , میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر ہادی کاکڑ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے نئی منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی۔
ملاقات کے دوران مرکزی کابینہ نے سول ہسپتال میں ڈاکٹرز کو درپیش پیشہ ورانہ، اور سہولتی مسائل سے آگاہ کیا، جس پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے مسائل کے حل کے لیے تعاون اور مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں ایجوکیشنل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل پانیزئی، جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر عرفان بگٹی، فنائس سیکریٹری ڈاکٹر عبداللہ ترین، ایگزیٹو کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر اویس علیزئی اور ڈاکٹر نصیب اللہ بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

پریس ریلیز14 مئی 2026ہاؤس آفیسرز کے Stipend میں اضافہ — ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی مسلسل جدوجہد رنگ لے آئی-ترجما...
14/05/2026

پریس ریلیز
14 مئی 2026

ہاؤس آفیسرز کے Stipend میں اضافہ — ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی مسلسل جدوجہد رنگ لے آئی-ترجمان

کوئٹہ : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس اہم پیش رفت کا خیر مقدم کرتی ہے کہ حکومت بلوچستان نے ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے stipend میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ڈاکٹرز کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ہے بلکہ اس بات کا واضح ثبوت بھی ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے کیے گئے وعدوں پر عملی طور پر کام کر رہی ہے۔

ہاؤس آفیسرز کا ماہانہ stipend 45,000 روپے سے بڑھا کر 60,000 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کا stipend 75,000 روپے سے بڑھا کر 90,000 روپے مقرر کیا گیا تھا۔ یہ اضافہ ڈاکٹرز کو درپیش مالی مشکلات کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ڈاکٹرز کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا اور انہیں حکام بالا تک پہنچانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ یہ حالیہ کامیابی اس بات کا عملی مظہر ہے کہ تنظیم نہ صرف مسائل کی نشاندہی کر رہی ہے بلکہ ان کے حل کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں بھی کر رہی ہے۔

تاہم، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دیگر صوبوں کے برابر stipend اور سہولیات کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ہم ڈاکٹرز کمیونٹی کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھاتے رہیں گے تاکہ ایک مضبوط، باوقار اور محفوظ طبی نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے نومنتخب صدر ڈاکٹر حئی بلوچ اور دیگر عہدیداران کو ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدارا...
13/05/2026

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے نومنتخب صدر ڈاکٹر حئی بلوچ اور دیگر عہدیداران کو ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی گئی۔

اس موقع پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ امید ہے نئی قیادت ڈاکٹرز اور ہیلتھ پروفیشنلز کے مسائل کے حل، صحت کے شعبے کی بہتری اور نوجوانوں کی مؤثر نمائندگی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔
وفد نے باہمی اتحاد، پیشہ ورانہ ہم آہنگی اور صحت کے نظام کی مضبوطی کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

پریس ریلیز13 مئی 2026بلوچستان کے ڈاکٹروں کو سنگین مالی و رہائشی مسائل درپیش — فوری حکومتی مداخلت ناگزیر بن چکی ہے _ ترجم...
13/05/2026

پریس ریلیز
13 مئی 2026

بلوچستان کے ڈاکٹروں کو سنگین مالی و رہائشی مسائل درپیش — فوری حکومتی مداخلت ناگزیر بن چکی ہے _ ترجمان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی جانب سے حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت کی توجہ ایک نہایت اہم اور فوری حل طلب مسئلے کی جانب مبذول کروائی جاتی ہے۔ صوبہ بھر میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اس وقت شدید مالی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں، جو نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی بلکہ صحت کے مجموعی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈاکٹرز کو مالی دباؤ کا سامنا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے مطابق ہرگز مناسب نہیں۔ مزید برآں، بلوچستان کے ڈاکٹرز کو دی جانے والی تنخواہیں اور وظائف دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں، جو احساسِ محرومی کو جنم دے رہے ہیں۔

اسی طرح، ڈاکٹرز کے لیے مناسب رہائشی سہولیات کی عدم فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بڑی تعداد میں ڈاکٹرز کو رہائش کے بنیادی وسائل میسر نہیں، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ صورتحال ان کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ:

* ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں فوری اور خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔
* ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے وظائف کو دیگر صوبوں کے برابر کیا جائے۔
* ڈاکٹرز کے لیے معیاری اور محفوظ رہائشی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

ہم حکومت بلوچستان پر زور دیتے ہیں کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حالیہ بجٹ میں ڈاکٹرز کمیونٹی کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ بصورت دیگر، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے تحت مؤثر لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔

ڈاکٹر ثناءاللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

ڈاکٹر ظہیر بلوچ کی بحفاظت بازیابی ایک خوش آئند خبر ہے۔ ہم تمام دوستوں اور ساتھیوں کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے ڈاکٹر ...
12/05/2026

ڈاکٹر ظہیر بلوچ کی بحفاظت بازیابی ایک خوش آئند خبر ہے۔ ہم تمام دوستوں اور ساتھیوں کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے ڈاکٹر کی بازیابی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی اور ہر ممکن تعاون کیا۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹرز کے تحفظ، وقار اور حقوق کے لیے اپنی جدوجہد پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی۔
✌️

پریس ریلیز 11 مئی 2026ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت  ڈاکٹر حئی بلوچ پریزیڈنٹ ینگ ڈاکٹرز ای...
11/05/2026

پریس ریلیز
11 مئی 2026

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا ایک اہم اجلاس زیرِ صدارت ڈاکٹر حئی بلوچ پریزیڈنٹ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان، سول ہسپتال کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیم کے عہدیداران و ایگزیکٹو کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔ترجمان

کوئٹہ : اجلاس کے آغاز میں
میں ایگزیکٹو کمیٹی ممبران کا تعارفی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر تمام نئے منتخب ایگزیکٹو ممبران کا باقاعدہ تعارف کروایا گیا اور تنظیمی امور کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ان کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا۔

اجلاس میں حالیہ کامیاب جنرل باڈی اجلاس کے انعقاد پر تمام کارکنان کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کارکنان کی محنت، اتحاد اور تنظیمی وابستگی ہی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی اصل طاقت ہے، جس کی بدولت یہ کامیابیاں ممکن ہوئیں۔

اجلاس میں ڈاکٹرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی اور سنجیدہ گفتگو کی گئی۔ خاص طور پر ڈینٹل سرجنز اور لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے مستقل پوسٹوں کی عدم فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر سینکڑوں کی تعداد میں بےروزگار ڈینٹل سرجنز اور لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے مستقل آسامیوں کا اعلان کرے تاکہ ڈاکٹرز میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس میں تنظیم کو مزید منظم، متحد اور فعال بنانے کے لیے مختلف عہدیداران اور کارکنان کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر رکن اپنی ذمہ داری کو دیانتداری اور جذبہ خدمت کے ساتھ ادا کرے تاکہ تنظیم مزید مضبوط ہو۔

نئی منتخب کابینہ کے حوالے سے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ تنظیم کو مزید فعال بنانے، ڈاکٹرز کے حقوق کے تحفظ اور صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔

اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تنظیم کا نام کسی بھی فرد کو ذاتی مفادات یا منفی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت تنظیمی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ تنظیم کی ساکھ اور وقار کو ہر صورت برقرار رکھا جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹرز برادری کے حقوق کے حصول اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

ڈاکٹر ثناء اللہ بلوچ
ترجمان
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

Address

Sandeman Provencial Hospital Quetta, Balochistan
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YDA Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to YDA Balochistan:

Share