07/06/2026
سوال قاتل کا نہیں، سوال نظام کا ہے
آج بلوچستان کے ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ ایک انسان زخمی ہوا، ایک ڈاکٹر جس کا کام دوسروں کے زخم بھرنا تھا، خود زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ مگر اس واقعے نے ایک اور زخم کو بے نقاب کر دیا، وہ زخم جو برسوں سے بلوچستان کے جسم پر لگا ہوا ہے۔
ہم سے بار بار کہا جاتا ہے کہ سب کچھ موجود ہے، ادارے موجود ہیں، اختیارات موجود ہیں، وسائل موجود ہیں۔ اگر واقعی سب کچھ موجود ہے تو پھر بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال میں ایک ڈاکٹر کا علاج کیوں نہ ہو سکا؟ کیوں اسے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال اور پھر کراچی منتقل کرنا پڑا؟
یہ صوبہ سونے، تانبے، گیس اور بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر یہاں کے انسان کی جان شاید اب بھی سب سے سستی چیز ہے۔ اربوں روپے کے منصوبوں اور ترقی کے دعووں کے درمیان ایک تلخ حقیقت کھڑی ہے: بلوچستان کا شہری آج بھی اپنی زندگی بچانے کے لیے اپنے ہی صوبے سے باہر جانے پر مجبور ہے۔
یہ صرف ایک ڈاکٹر کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کی کہانی ہے جو بلند دعوے تو کرتا ہے مگر مشکل وقت میں اپنے ہی لوگوں کو سہارا دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ اگر صوبے کا سب سے بڑا اسپتال بھی ایک سنگین زخمی ڈاکٹر کو مکمل علاج فراہم نہیں کر سکتا تو پھر عام آدمی کے لیے امید کہاں ہے؟
ہر بار ہمیں کہا جاتا ہے کہ سوال نہ اٹھاؤ، خاموش رہو، انتظار کرو۔ مگر آخر کب تک؟ کیا ایک انسان کی جان اتنی بے وقعت ہے کہ اسے علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور بھیجنا معمول بن جائے؟
آج کراچی جانے والی ایمبولینس صرف ایک مریض کو نہیں لے جا رہی تھی، وہ بلوچستان کے صحت کے نظام پر ایک خاموش فردِ جرم بھی لے جا رہی تھی۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب اب الفاظ سے نہیں، عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔
کیونکہ جب ایک صوبہ اپنے بہترین ڈاکٹروں کو بھی بروقت اور مکمل علاج فراہم نہ کر سکے، تو مسئلہ صرف ایک حادثہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کی ناکامی بن جاتا ہے۔