Muhammad Junaid

Muhammad Junaid MBBS 30 | RMU 53 | Reader | Poetry lover
(1)

11/06/2026

Thanks for becoming the voice of doctors.
Syed Muzammil Official

09/06/2026

Silence in the face of injustice is just permission for history to repeat itself." 💔

08/06/2026

A society that cannot protect its healers is a society in crisis.

سوال قاتل کا نہیں، سوال نظام کا ہےآج بلوچستان کے ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ ایک انسان زخمی ہوا، ایک ڈاکٹر جس کا کام ...
07/06/2026

سوال قاتل کا نہیں، سوال نظام کا ہے

آج بلوچستان کے ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ ایک انسان زخمی ہوا، ایک ڈاکٹر جس کا کام دوسروں کے زخم بھرنا تھا، خود زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ مگر اس واقعے نے ایک اور زخم کو بے نقاب کر دیا، وہ زخم جو برسوں سے بلوچستان کے جسم پر لگا ہوا ہے۔

ہم سے بار بار کہا جاتا ہے کہ سب کچھ موجود ہے، ادارے موجود ہیں، اختیارات موجود ہیں، وسائل موجود ہیں۔ اگر واقعی سب کچھ موجود ہے تو پھر بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال میں ایک ڈاکٹر کا علاج کیوں نہ ہو سکا؟ کیوں اسے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال اور پھر کراچی منتقل کرنا پڑا؟

یہ صوبہ سونے، تانبے، گیس اور بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر یہاں کے انسان کی جان شاید اب بھی سب سے سستی چیز ہے۔ اربوں روپے کے منصوبوں اور ترقی کے دعووں کے درمیان ایک تلخ حقیقت کھڑی ہے: بلوچستان کا شہری آج بھی اپنی زندگی بچانے کے لیے اپنے ہی صوبے سے باہر جانے پر مجبور ہے۔

یہ صرف ایک ڈاکٹر کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کی کہانی ہے جو بلند دعوے تو کرتا ہے مگر مشکل وقت میں اپنے ہی لوگوں کو سہارا دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ اگر صوبے کا سب سے بڑا اسپتال بھی ایک سنگین زخمی ڈاکٹر کو مکمل علاج فراہم نہیں کر سکتا تو پھر عام آدمی کے لیے امید کہاں ہے؟

ہر بار ہمیں کہا جاتا ہے کہ سوال نہ اٹھاؤ، خاموش رہو، انتظار کرو۔ مگر آخر کب تک؟ کیا ایک انسان کی جان اتنی بے وقعت ہے کہ اسے علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور بھیجنا معمول بن جائے؟

آج کراچی جانے والی ایمبولینس صرف ایک مریض کو نہیں لے جا رہی تھی، وہ بلوچستان کے صحت کے نظام پر ایک خاموش فردِ جرم بھی لے جا رہی تھی۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب اب الفاظ سے نہیں، عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔

کیونکہ جب ایک صوبہ اپنے بہترین ڈاکٹروں کو بھی بروقت اور مکمل علاج فراہم نہ کر سکے، تو مسئلہ صرف ایک حادثہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کی ناکامی بن جاتا ہے۔

06/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا ۔۔۔ 13 فیصد وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے اس کا بھی علاج ممکن ہے تمام اعضا...
06/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا ۔۔۔ 13 فیصد وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے اس کا بھی علاج ممکن ہے تمام اعضاء سلامت ہیں۔۔۔ آغا خان ہسپتال کراچی کی رپورٹ

06/06/2026

اس واقعے کے بعد کیا ہی لکھوں؟ الفاظ نہیں ہیں کہ جن میں درد بیاں ہو سکے۔ جن پر تیزاب ڈالا گیا وہ بھی تو آخر کسی کی بہن ، بیٹی یا ماں ہوگی۔۔۔انہوں نے اتنے سال ان تھک محنت کی۔۔۔ایم ڈی کیٹ کلیئر کیا، ایم بی بی ایس کے اتنے کٹھن سال گزارے پھر ایف سی پی ایس کیا ہوگا۔۔۔۔اور پھر کوئی تیزاب پھینک کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کیوں؟ کیا لوگ اتنا سفاک ہو گئے ہیں کہ اپنے مسیحا کو ہی جان سے مارنے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔۔۔

اگر ڈاکٹرز کو مکمل طور سیکیورٹی نہیں دی جاتی تو یقین مانیں کہ کوئی بھی ڈاکٹر مریض کے قریب بھی نہیں جائے گا۔
حکومت کو ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے

تحریر : محمد جنید آج صبح راولپنڈی پہنچا تو جونہی میٹرو اسٹیشن سے اُترا  تو مجھے نشے میں لت پت ، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس ا...
02/06/2026

تحریر : محمد جنید

آج صبح راولپنڈی پہنچا تو جونہی میٹرو اسٹیشن سے اُترا تو مجھے نشے میں لت پت ، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر کا آدمی فٹ پاتھ پر بے اعتنائی سے پڑا ہوا نظر آیا۔ اُسے دیکھتے ہی ایک پوری فلم دماغ میں گھومنے لگی لیکن شرمندگی اور خود پرستی کا بوجھ لیے آگے بڑھ گیا۔
دماغ میں طرح طرح کی باتیں چل رہی تھیں کہ آخر یہ شخص بھی اپنے ماں باپ کا لاڈلا ہوتا ہوگا اور اس کے بھی بیوی بچوں ہوں گے اور اُن کا گزر کیسے ہو رہا ہوگا۔ یہ شخص اپنی موجودہ حالت میں کیسے پہنچا اور اس کا زمہ دار کون ہے؟
راولپنڈی آنے سے قبل کل مجھے اپنے شہر لیّہ میں میٹرک کے دو دوست ملے جن کو پہچاننا مشکل تھا۔۔۔بال بڑھے ہوئے ، بٹن کھلے ہوئے ، آستینیں چڑھی ہُوئیں اور ہاتھوں میں فلیور والا شیشہ تھا جو وقفے وقفے سے کمال لا پروائی سے دونوں ہونٹوں پر رکھتے اور دھواں نکالتے ہوئے اُس کو منہ سے باہر نکالتے ۔ خیر میں نے اُن سے ضروری سلام دعا کی اور چلتا بنا۔
میں اپنے ہاسٹل کی جانب بڑھتا جا رہا تھا اور مجھے اپنے دوست یاد آنے لگے ۔ مجھے اس سڑک پر پڑے ہوئے شخص اور اپنے دوستوں میں کچھ مماثلت نظر آئی اور میں چونکا کہ کہیں اُن دونوں کا مستقبل وہی تو نہیں جو اس نشے میں لت پت فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے شخص کا ہے!
بچپن میں ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ سے یہ تنبیہ باقاعدگی سے ملا کرتی تھی کہ کبھی بھی آوارہ لڑکوں کے ساتھ نہیں بیٹھنا اور سگریٹ وغیرہ جیسی چیزوں میں نہیں پڑنا ۔ اسکولوں میں بھی اساتذہ منشیات کے نقصان بتایا کرتے تھے۔ تب ہمیں ذرا سا خیال بھی نہیں آتا تھا کہ ہمارے ہم مکتب آگے جا کر اس لت میں پڑ جائیں گے ۔ دراصل وقت کر ساتھ ساتھ بچہ خود کو آزاد محسوس کرنے لگ جاتا ہے اور گھر والے بھی بچوں پر بلا ضرورت نرمی کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوگیا ہے۔ حالاں کہ اُنہیں یہ نہیں پتہ ہوتا کہ بچے کی گھر سے باہر سرگرمیاں کیا ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں کے پاس کم عمری میں ہی والدین کی سرپرستی کے بغیر ذاتی موبائل فون کا ہونا جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کام سر انجام دیتا ہے اُس بچے کو خود بھی اندازہ ہوتا کہ منشیات کا استعمال نقصان دہ ہے لیکن جوانی کا خمار اور دوستوں کی صحبت کی وجہ سے وہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر منشیات کی تشہیر ، جس میں بڑے بڑے اسٹارز منشیات کو فروغ دیتے ہیں تو وہ نوجوان اُن کو ہی فالو کرنے میں لگ جاتا ہے ۔اوائل میں فلیور والے سگریٹ(ویپنگ) پینا شروع کرتا ہے ۔۔۔۔پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ چرس، بھنگ،آئس ، افیون اور پھر ہیروئن وغیرہ تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ شراب نوشی بھی پھر عام ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مہنگے اور برانڈز کے ڈرگز شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی کام دھندا نہیں ہے تو پھر نشہ پورا کرنے کیلئے دوسروں سے پیسے مانگنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ جب دوسرے تنگ آ جاتے ہیں تو چوری کر کے یا دوسرے نا جائز ذرائع سے منشیات خرید کر نشہ پورا کیا جاتا ہے۔
ایسے لوگ اپنے گھر سے بے تعلق ہو جاتے ہیں۔ یہ تو اپنے ہی نہیں رہتے ، دوسروں کے خاک ہوں گے ۔ ذہنی طور پر مفلوج زدہ لوگ گلیوں کوچوں پر بھٹکتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اور یونہی چوراہوں اور فٹ پاتھوں پر ایسے پڑے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ والدین کی ذرا سی غفلت اور اُس کے دوستوں کی حد سے زیادہ عیاش پرستی اور خود اُس کی جوانی کا خمار اُس کو اپنی ماں کی آغوش میں بے فکری سے سوتا ہوا چھین کر یونہی فٹ پاتھ پر نشے میں مد ہوش پھینک دیتا ہے۔ ہماری یونیورسٹیز میں بھی منشیات کا استعمال بھی خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے اور اس ضمن میں اعلیٰ حکومتی اداروں کو ایک نظر ادھر بھی دوڑانی چاہیے اور یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو بھی بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے تا کہ طلباء کا مستقبل مفلوج نہ ہو۔

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ 🥀کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ
02/06/2026

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ 🥀
کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

01/06/2026

ہماری عوام میں طبی شعور اور آگاہی کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔

ایک نیم بے ہوش مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹر سب سے پہلے مریض کے ردِعمل (Response) کو جانچتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بعض اوقات سینے کی ہڈی (Sternum) پر ہلکا دباؤ دیا جاتا ہے، جسے طبی زبان میں “Sternal Rub” کہا جاتا ہے۔ اس عمل سے بہت سے مریض فوری طور پر ردِعمل ظاہر کرتے ہیں یا ہوش میں آ جاتے ہیں۔

آج بھی ایک ڈاکٹر صاحب نے مریض کے معائنے کے دوران یہی طبی طریقہ استعمال کیا، لیکن کسی نے موبائل فون سے ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر نشر کر دیا اور اپنی محدود معلومات کے مطابق اس پر تبصرے بھی شروع کر دیے۔

خدارا! طبی معاملات پر رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ اپنے معالجین اور مسیحاؤں کا احترام کریں اور انہیں بلاجواز تنقید اور کردار کشی کا نشانہ نہ بنائیں۔ ایسا ماحول نہ بنائیں کہ ہمارے قابل اور محنتی ڈاکٹر سرکاری ملازمت اور اپنے ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہو جائیں۔

ڈاکٹر قمر عباس 🇵🇰

Address

Committee Chowk
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Junaid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Junaid:

Share