20/01/2026
ڈان نیوز کو دئیے گئے انٹرویو کا اردو ترجمعہ۔ یہ 18 جنوری 2026 کو انگریزی اخبار روزنامہ ڈان میں شائع ہوا۔
ڈان نیوز رپورٹ — 40 طبّیہ (Tibb) کالجوں اور طب کا مستقبل خطرے میں۔
اسلام آباد: صحت کی وزارت کی جانب سے رائیٹ سائزنگ پلان کے تحت نیشنل کونسل فار طبّ اور نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی کو ضم کرنے کے ایک مجوزہ بل نے تقریباً 70,000 حکیموں کے مستقبل کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اجمل طبّیہ کالج راولپنڈی کے پرنسپل پروفیسر عمران لودھی نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ وزارت نے ایک بل تیار کر رکھا ہے جس میں دونوں کونسلز کو ضم کرنے اور کالجوں کو بند کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے تحت نئے تعلیمی سیشن میں طلبہ داخل نہیں ہوں گے اور موجودہ طلبہ کے فارغ التحصیل ہونے کے بعد کالج بند کر دیے جائیں گے۔
پروفیسر لودھی نے بتایا کہ پاکستان میں صحت کے تین بڑے نظام ہیں: ایلپیتھک (ڈاکٹر)، ہومیوپیتھک، اور حکیم (طبّ قدیم)۔ حکمت اور ہومیوپیتھی 1965 کے Unani, Ayurvedic & Homeopathic Practitioners Act کے تحت کام کرتے ہیں، جس کے تحت دونوں کونسلز قائم ہوئی ہیں۔
موجودہ وقت میں ملک بھر میں 40 حکمت کالج اور 140 ہومیوپیتک کالج فعال ہیں۔ حکمت کالج میں سائنس کے ساتھ میٹرک پاس طلبہ داخل ہوتے ہیں، جنہیں چار سال تعلیم اور چھ ماہ ہاؤس جاب مکمل کرنا ہوتا ہے۔ بعض یونیورسٹیاں FSc pre-medical طلبہ کو بھی قبول کرتی ہیں جنہیں ایک سال ہاؤس جاب کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان طبّی الائنس کے جنرل سیکرٹری محمد سجاد نے حکومت اور قانون کی وزارتوں کو درخواست بھیجی ہے کہ وہ اس مسودہ بل پر مزید غور نہ کریں۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ بل میں ایسا کوئی واضح “saving clause” شامل نہیں جس سے موجودہ پیشہ ورانہ لائسنس برقرار رہ سکیں، جس سے صحت کے اس شعبے میں قانونی اور روزگار کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ ضم کاری پارلیمنٹ کے ذریعے، متعلقہ شعبوں سے مشاورت کے ساتھ کی جا رہی ہے تاکہ طبّ اور ہومیوپیتھی کی تعلیم بہتر معیار کے مطابق ہو۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ قدم اخراجات کم کرنے کے عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی سفارشات کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکیموں کا کہنا ہے کہ وہ دور دراز دیہی علاقوں میں اکثر واحد صحت فراہم کنندہ ہیں، جہاں MBBS ڈاکٹر کم دستیاب ہوتے ہیں۔ کئی حکیموں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل قانون بن گیا تو وہ اپنی روایتی دوائیں تیار نہیں کر سکیں گے اور صرف کمپنیوں کی دوائیں تجویز کرنے پر مجبور ہوں گے، جبکہ کمپنیوں کے پاس بہت سی خاص بیماریوں کے لیے دوائیں بھی نہیں ہوتیں۔