Dr.Noman Khan chest specialist

Dr.Noman Khan chest specialist Chest/Allergy/Asthma specialist |Analyst |Philanthropist |Social activist |Writer

موسمِ سرما کی آمد آمد ہے اور ہر گھر میں ہر عمر کا فرد خشک کھانسی کے سبب گلے میں خراشوں، بلغمی کھانسی، نزلہ ، زکام اور ...
09/09/2026

موسمِ سرما کی آمد آمد ہے اور ہر گھر میں ہر عمر کا فرد خشک کھانسی کے سبب گلے میں خراشوں، بلغمی کھانسی، نزلہ ، زکام اور بخار میں مبتلا نظر آ رہا ہے، خشک موسم میں سب سے تکلیف دہ شکایت کھانسی کی ہوتی ہے جس سے ہر کوئی جَلد از جَلد جان چھڑانا چاہتا ہے۔
خشک کھانسی کے علاج سے قبل اس کی وجوہات اور پھر علاج جاننا ضروری ہے، ماہرین کے مطابق خشک کھانسی عام طور پر وائرل ہوتی ہے، یہ کھانسی موسم کے بدلنے کے دوران متاثر کرتی ہے جبکہ اس کی دیگر وجوہات خشک ہوا میں سانس لینا، نزلہ اور زکام یا کسی قسم کی الرجی جیسے کے ڈسٹ الرجی بھی ہوسکتی ہے۔طبیعت زیادہ خراب ہو تو آج ہی اپنے معالج سے رابطہ کریں ۔

®ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

*موسم سرما کی آمد کس طرح سانس کو متاثر کرتی ہے*موسم سرما میں ٹھنڈی اور خشک ہوا پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کر سکتی ہے، جس سے ...
09/09/2026

*موسم سرما کی آمد کس طرح سانس کو متاثر کرتی ہے*

موسم سرما میں ٹھنڈی اور خشک ہوا پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کر سکتی ہے، جس سے دمے اور COPD جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں. اس موسم میں بلغم کی پیداوار بڑھ جاتی ہے اور سانس کی نالیوں کے خشک ہونے کا خطرہ ہوتا ہے. آلودگی اور سموگ بھی پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں، لہذا ان دنوں بیرونی سرگرمیوں سے گریز کرنا اور ماسک پہننا ضروری ہے۔

*موسم سرما میں پھیپھڑوں کے مسائل کی وجوہات*

*ٹھنڈی اور خشک ہوا*: سردیوں میں بنیادی تشویش ہوا کا درجہ حرارت اور خشکی ہے۔ جب ہم خشک ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو یہ ہمارے پھیپھڑوں میں جلن پیدا کر سکتی ہے اور سانس لینا مشکل بنا سکتی ہے۔

*اندرونی حرارتی نظام* : اگرچہ سردیوں میں گرم رکھنا ضروری ہے، حرارتی نظام اندر کی ہوا کو خشک کر سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر دمہ یا سانس کی بیماری والے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ خشک گھر کا ماحول علامات کو خراب کر سکتا ہے، جس سے ہوا میں نمی سے بھرپور رکھنے کے لیے humidifiers کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔

*فلو اور سردی کا موسم* : سردیوں میں فلو اور سردی کے وائرس کا بھی عروج ہوتا ہے، جو سانس کے انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ دمہ یا COPD جیسے پہلے سے موجود حالات کے ساتھ، یہ وائرس سانس لینے کے مسائل کو مزید خراب کر سکتے ہیں، جس سے مزید پیچیدگیاں اور ہسپتال میں داخل ہو سکتے ہیں۔

*الرجین کی بڑھتی ہوئی نمائش*: اگرچہ بہت سے موسم بہار اور موسم گرما کے ساتھ الرجی کو منسلک کرتے ہیں، موسم سرما اپنے الرجیوں کا ایک سیٹ لا سکتا ہے. دھول کے ذرات، گیلے موسم سرما کے حالات سے مولڈ، اور یہاں تک کہ پالتو جانوروں کی خشکی گرم اندرونی ماحول میں پروان چڑھ سکتی ہے۔ یہ الرجین پھیپھڑوں میں جلن پیدا کر سکتے ہیں اور دمہ یا سانس کی دیگر علامات کے بھڑک اٹھنے کا سبب بن سکتے ہیں

*بلغم کی پیداوار* :
سردیوں میں جسم میں بلغم زیادہ بنتا ہے جو الرجین اور آلودگیوں کو پھنسانے کے لیے ایئر ویز کو متحرک کرتا ہے.
*آلودگی اور سموگ* :
خراب ہوا کا معیار پھیپھڑوں کی بیماریوں کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر دمے اور COPD کے مریضوں میں
*احتیاطی تدابیر* :
بیرونی سرگرمیوں سے گریز:
زیادہ آلودگی والے یا شدید سردی والے دنوں میں گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں.

*ماسک کا استعمال* :
جب باہر جائیں تو ماسک پہننے سے آپ کو آلودگی اور سرد ہوا سے بچاؤ ملے گا.

*ویکسینیشن* :
فلو اور نمونیا کی ویکسین لگوانے سے ان سانس کے انفیکشنز سے بچا جا سکتا ہے جو پھیپھڑوں کی بیماریوں کو خراب کر سکتے ہیں.

*ہوا کا معیار چیک کریں* :
ہوا کے معیار اور موسم کی پیشن گوئی کی نگرانی کریں تاکہ زیادہ خطرے والے دنوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں.

*اندرونی ہوا کو بہتر بنائیں* :
ایئر پیوریفائر کا استعمال کریں اور گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے گریز کریں.
03414967717

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
📞

08/09/2026
اکثر لوگ سوال پوچھے ہیں کہ کیا فلو ویکسین جلد یا آنکھوں کی الرجی کے لیے لگائی جاسکتی ہےاور یہ مفت سرکاری طور پر مل جاتی ...
08/09/2026

اکثر لوگ سوال پوچھے ہیں کہ کیا فلو ویکسین جلد یا آنکھوں کی الرجی کے لیے لگائی جاسکتی ہےاور یہ مفت سرکاری طور پر مل جاتی ہے تو اُسکا جواب ہے

1️⃣ یہ ویکسین جلد یا آنکھوں کی الرجی کے لیے نہیں ہے۔

2️⃣ یہ ویکسین سرکاری طور پر مفت نہیں لگائی جاتی، بلکہ عموماً پرائیویٹ طور پر لگوانی پڑتی ہے۔

3️⃣ اور سب سے اہم بات:
یہ ویکسین آپ کی الرجی ختم نہیں کرتی، بلکہ الرجی کی وجہ سے ہونے والے خطرناک سانس کے انفیکشنز، خاص طور پر انفلوئنزا اور نمونیا (Pneumococcal disease) سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔

یعنی الرجی کا علاج الگ ہے، جبکہ یہ ویکسین انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ہے۔

®ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

 #الرجی  #کیا  #ہے !!!!ماحول میں موجود گردو غبار اور آلودگی کے باعث ہر دوسرا شخص چھینکتا اور گلے کے مسائل کا شکار نظر ا...
08/09/2026

#الرجی #کیا #ہے !!!!
ماحول میں موجود گردو غبار اور آلودگی کے باعث ہر دوسرا شخص چھینکتا اور گلے کے مسائل کا شکار نظر آتا ہے۔ کچھ موسم بھی الرجی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی علاقوں میں موسم بہار میں پولن الرجی سےبہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم الرجی کا مسئلہ موسمِ سرما میں زیادہ شدت اختیار کرجاتا ہے اورسردیوں کا نزلہ، زکام مختلف بیماریوں اور بخار کا بھی باعث بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ غیرمعیاری پانی اور سیوریج کی ناقص صورتحال سانس اور جِلد کی الرجی کا بھی باعث بنتی ہے۔
ہمارا مدافعتی نظام ہمیں بیماریوں والے بیکٹیریاز اور وائرسز سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایسے ہی کسی بھی عنصر کے مخالف ایک مضبوط مدافعتی رد عمل ہوتاہے، جو اکثر لوگوں کیلئے نقصان دہ نہیں ہوتا، یہ عنصر الرجی کہلاتاہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ الرجی قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نعمان خان

الرجی: سوالات، جوابات اور اہم حقائق​الرجی ایک ایسا عام طبی مسئلہ ہے جس کے بارے میں معلومات کا ہونا ہر فرد کے لیے نہایت ض...
08/09/2026

الرجی: سوالات، جوابات اور اہم حقائق

​الرجی ایک ایسا عام طبی مسئلہ ہے جس کے بارے میں معلومات کا ہونا ہر فرد کے لیے نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر الرجی کو محض چھینکیں آنے یا جلد پر خارش ہونے تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ جسم کے مدافعتی نظام سے جڑا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ذیل میں الرجی سے متعلق بنیادی سوالات اور ان اہم مسائل کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے جن کی آگاہی ہر انسان کو ہونی چاہئے۔
​1. الرجی اصل میں کیا ہے اور یہ کیوں ہوتی ہے؟
​مدافعتی نظام کا بیجا ردِعمل: قدرت نے انسانی جسم میں ایک بہترین دفاعی نظام رکھا ہے جو جراثیموں اور بیماریوں سے حفاظت کرتا ہے۔ تاہم، جب یہ نظام ماحول میں موجود کسی عام اور بے ضرر شے (مثلاً گرد و غبار، پولن، یا کسی خوراک) کو خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِعمل ظاہر کرتا ہے تو اسے الرجی کہتے ہیں۔
​حیاتیاتی و کیمیائی عمل: اس عمل میں مدافعتی نظام ایک مخصوص پروٹین IgE (Immunoglobulin E) پیدا کرتا ہے۔ یہ IgE خون کے سفید خلیوں سے منسلک ہو کر ہسٹامائن (Histamine) نامی کیمیکل کو خارج کرتی ہے، جس سے الرجی کی علامات (سوجن، خارش، نزلہ، یا سانس کی تنگی) پیدا ہوتی ہیں۔
​2. الرجی سے متعلق اہم سوالات اور جوابات
​سوال: کیا الرجی ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ سکتی ہے؟
​جواب: ہرگز نہیں۔ الرجی کوئی متعدی یا چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ یہ انسان کے اپنے اندرونی مدافعتی نظام کا انفرادی رویہ ہوتی ہے۔
​سوال: اگر خاندان میں ایک سے زیادہ افراد کو الرجی ہو تو اس کی کیا وجہ ہے؟
​جواب: ایک ہی خاندان کے افراد کا جینیاتی ساخت (موروثیت) اور ماحول ایک جیسا ہوتا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے، ایک جیسی ہوا میں سانس لینے اور ایک جیسی خوراک کھانے کی وجہ سے خاندان کے متعدد افراد کو ایک ہی وقت میں الرجی ہو سکتی ہے، لیکن یہ ایک دوسرے سے منتقل نہیں ہوتی۔
​سوال: کیا الرجی عمر کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے؟
​جواب: الرجی کی نوعیت عمر کے مختلف ادوار میں بدلتی رہتی ہے:
​بچپن: بچوں میں عام طور پر جلد کی الرجی (ایگزیما) اور سانس یا دمہ کی علامات زیادہ ہوتی ہیں۔
​بلوغت (12 سال کے قریب): اکثر بچوں میں جوانی کی طرف قدم رکھتے ہی علامات کم یا ختم ہو جاتی ہیں۔
​بڑھاپا (60 سال سے اوپر): اس عمر میں علامات مستقل شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں، اگرچہ الرجی کا اصل عنصر نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔
​3. وہ اہم مسائل جن کے بارے میں آگاہی ضروری ہے
​الرجی کے علاج اور دیکھ بھال کے دوران درج ذیل امور کا خاص خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے:
​شدید جسمانی و ذہنی دباؤ کے اثرات:
​جب مریض کسی قسم کے جسمانی یا ذہنی دباؤ (Stress) سے گزرتا ہے—مثلاً شدید بیماری، حاملہ ہونا، یا ذہنی پریشانی—تو جسم کا مدافعتی نظام مزید حساس ہو جاتا ہے اور الرجی کی علامات شدت اختیار کر لیتی ہیں۔
​الرجی کا باعث بننے والے عوامل (Triggers) کی شناخت:
​الرجی کی ادویات سے زیادہ ضروری یہ بات ہے کہ مریض کو معلوم ہو کہ اسے کس شے سے الرجی ہے۔ عام محرکات میں پولن (پھولوں اور گھاس کا غبار)، دھول مٹی (Dust Mites)، پالتو جانوروں کے بال، پرفیوم، تیز دھواں، اور مخصوص خوراک (انڈے، مچھلی، مونگ پھلی، دودھ) شامل ہیں۔
​شدید الرجی ردِعمل (Anaphylaxis):
​بعض اوقات کسی دوائی، کیڑے کے کاٹنے، یا خوراک سے ہونے والی الرجی اتنی شدید ہوتی ہے کہ سانس کی نالی بند ہونے لگتی ہے اور بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔ اس حالت کو "اینافیلیکسس" کہتے ہیں، جس میں فوری طبی امداد ناگزیر ہوتی ہے۔
​خود ساختہ علاج (Self-Medication) کے خطرات:
​بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے مسلسل اینٹی ہسٹامائن یا ایسٹیرائڈ (Steroid) ادویات اور اسپرے کا استعمال دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
​الرجی سے نجات اور اس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ الرجی پیدا کرنے والے عوامل سے پرہیز کیا جائے، صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے اور علامات بڑھنے کی صورت میں کسی ماہرِ امراضِ تنفس یا الرجی اسپیشلسٹ سے رجوع کیا جائے۔

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

بلغم کیا ہے؟بلغم سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں میں بننے والا گاڑھا مادہ ہوتا ہے جو جسم کو جراثیم، گردوغبار اور نقصان دہ ذر...
08/09/2026

بلغم کیا ہے؟

بلغم سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں میں بننے والا گاڑھا مادہ ہوتا ہے جو جسم کو جراثیم، گردوغبار اور نقصان دہ ذرات سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ جب بلغم زیادہ مقدار میں بننے لگے یا اس کا رنگ تبدیل ہو جائے تو یہ کسی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔

بلغم کی اقسام اور رنگ
🔹 سفید بلغم:
نزلہ، الرجی یا ابتدائی انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے۔
🔹 پیلا بلغم:
سانس کی نالی میں انفیکشن یا سوزش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
🔹 سبز بلغم:
شدید انفیکشن، سینے کی بیماری یا نمونیا میں دیکھا جاتا ہے۔
🔹 خونی بلغم:
ٹی بی، پھیپھڑوں کی سوزش یا دیگر سنگین بیماریوں کی علامت ہو سکتا ہے، فوری معائنہ ضروری ہے۔
🔹 جھاگ دار بلغم:
دل یا پھیپھڑوں کے بعض امراض میں پیدا ہو سکتا ہے۔

بلغم بننے کی وجوہات
✔️ نزلہ زکام
✔️ الرجی اور دمہ
✔️ سگریٹ نوشی
✔️ فضائی آلودگی اور دھواں
✔️ نمونیا اور ٹی بی
✔️ COPD اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں
✔️ ٹھنڈی اشیاء اور گردوغبار

احتیاطی تدابیر
✅ سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں
✅ ٹھنڈی اور بازاری اشیاء کم استعمال کریں
✅ گردوغبار اور دھوئیں سے بچیں
✅ زیادہ پانی پئیں
✅ بخار، خون والے بلغم یا مسلسل کھانسی کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
✅ ماسک کا استعمال کریں خصوصاً الرجی کے موسم میں

علاج
بلغم کا علاج اس کی اصل وجہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اینٹی بایوٹک، بھاپ، انہیلر یا دیگر ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ خود علاج کرنے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

👨‍⚕️ ڈاکٹر نعمان خان — چیسٹ اسپیشلسٹ
📍 شفاء ہسپتال نیو بلاک، سیدو شریف سوات
🕙 صبح 10 بجے تا شام 4 بجے
📞 0341-4967717

موسم سرما کی شروعات تمام شروعاتوں سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔جب سوات کی وادیوں پر ہلکی دھند کی چادر تان جاتی ہے، پہاڑوں کی...
07/09/2026

موسم سرما کی شروعات تمام شروعاتوں سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔
جب سوات کی وادیوں پر ہلکی دھند کی چادر تان جاتی ہے، پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی سفیدی مسکرانے لگتی ہے اور ہواؤں میں ایک دلکش خنکی گھل جاتی ہے، تو روح کو ایک عجب تسکین کا احساس ہوتا ہے۔ یہ وہ موسم ہے جو دل کے تار چھیڑتا ہے، گرم چائے کی بھاپ سے اٹھتی محبت کی مہک اور شام کے دھندلکے میں اپنوں کے قریب بیٹھنے کا رومانویت سے بھرا احساس کسی بھی دوسرے موسم میں میسر نہیں۔ سرسراتی ہوئی ہوائیں اور خاموش راتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ قدرت کس خوبصورتی سے بدلتی ہے۔
لیکن جہاں یہ موسم دل کے لیے شاعرانہ اور خوبصورت ہے، وہیں جسم اور خصوصاً ہمارے سانس کے نظام کے لیے کچھ امتحان بھی لاتا ہے۔ سرد ہوا کی تیزی اور فضا میں نمی کی تبدیلی سینے کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ اس دلکش موسم میں نزلہ، زکام، اور فلو کا پھیلنا عام بات ہے، جبکہ دمے (Asthma) اور الرجی کے مریضوں کے لیے ٹھنڈی ہوا سانس کی نالیوں میں سُکڑن اور سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ چھوٹے بچوں اور بزرگوں میں نمونیا اور برونکائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے اس خوبصورت موسم کا لطف ماند پڑنے لگتا ہے۔
اگر ہم کچھ چھوٹی اور آسان احتیاطی تدابیر اختیار کریں، تو اس موسم کی رعنائیوں کو مکمل صحت اور بے ترSchedule خوشی کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے:
مناسب لباس کا استعمال: صبح اور شام کے وقت جب ہوائیں خنک ہوں، تو سینے، گردن اور کانوں کو اونی کپڑوں يا چادر سے ڈھانپ کر رکھیں۔
گرم مشروبات کی گرمجوشی: دارچینی، ادرک، شہد اور جوشاندے جیسی قدرتی نعمتوں کا استعمال کریں جو نہ صرف جسم کو اندر سے گرم رکھتی ہیں بلکہ گلے اور سانس کی نالیوں کو بھی صاف رکھتی ہیں۔
سرد ہوا سے بچاؤ: منہ اور ناک پر ماسک یا رومال کا استعمال کریں تاکہ ٹھنڈی ہوا براہ راست پھیپھڑوں میں نہ جائے۔
بھاپ (Steam) کا اہتمام: رات کو سوتے وقت ہلکی بھاپ لینا سانس کی نالیوں کو تر رکھتا ہے اور جمی ہوئی بلغم کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔
بر وقت طبی مشورہ: اگر سانس پھولنے لگے، مسلسل کھانسی ہو یا سینے میں جکڑن محسوس ہو، تو خود معالجی کی بجائے فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم و سینہ سے رجوع کریں۔
موسمِ سرما کی یہ دلکش شروعات آپ کی زندگی میں صحت، گرمجوشی اور خوبصورت یادیں لے کر آئے۔ خود بھی گرم رہیں اور اپنے پیاروں کا خیال بھی رکھیں، کیونکہ صحت مند دل اور صحت مند پھیپھڑوں کے ساتھ ہی اس خوبصورت موسم کے نغمے سنے جا سکتے ہیں۔
®ڈاکٹر نعمان خان (چیسٹ اسپیشلسٹ)
شفاء ہسپتال، سیدو شریف سوات

ڈسٹ الرجیڈسٹ الرجی موجودہ دور کا ایک عام لیکن تکلیف دہ طبی مسئلہ ہے، جو کہ نظامِ تنفس (Respiratory System) کو بری طرح مت...
07/09/2026

ڈسٹ الرجی

ڈسٹ الرجی موجودہ دور کا ایک عام لیکن تکلیف دہ طبی مسئلہ
ہے، جو کہ نظامِ تنفس (Respiratory System) کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ سوات اور گردونواح کے موسم اور ماحول کے پیشِ نظر اس بیماری کے مریضوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر وقت پر اس کا تدارک نہ کیا جائے تو یہ دمہ (Asthma) جیسی سنگین بیماری کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ڈسٹ الرجی کی تعریف (Definition)
جب ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) ہوا میں موجود دھول مٹی، گرد و غبار اور دیگر باریک ذرات کو جسم کے لیے خطرناک سمجھ کر ان کے خلاف ضرورت سے زیادہ ردعمل (Overreaction) ظاہر کرتا ہے، تو اسے ڈسٹ الرجی کہتے ہیں۔ اس ردعمل کے نتیجے میں جسم میں "ہسٹامین" نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے جو الرجی کی علامات کا باعث بنتا ہے۔

ڈسٹ الرجی کی اقسام (Types)
مریضوں کی کیفیت اور الرجی کے محرکات کے لحاظ سے اس کی درج ذیل اقسام ہو سکتی ہیں:
موسمی الرجی (Seasonal Allergy): یہ سال کے مخصوص مہینوں (جیسے بہار یا خزاں) میں مٹی کی دھول اور پھولوں کے زرِ دانے (Pollens) بڑھنے سے ہوتی ہے۔
دائمی الرجی (Perennial Allergy): یہ الرجی سال کے بارہ مہینے برقرار رہتی ہے، جس کی بنیادی وجہ گھر کے اندر کی مٹی، کارپٹ کے ذرات اور ڈسٹ مائٹس ہوتے ہیں۔
پیشہ ورانہ الرجی (Occupational Allergy): یہ ان لوگوں کو ہوتی ہے جو ایسے ماحول میں کام کرتے ہیں جہاں مٹی، سیمنٹ، کپڑے کا بر یا لکڑی کا برادہ زیادہ اڑتا ہو۔

نمایاں علامات (Symptoms)
ڈسٹ الرجی کی علامات ہلکی بھی ہو سکتی ہیں اور شدید بھی۔ عام علامات میں شامل ہیں:
بار بار چھینکیں آنا (خصوصاً صبح کے وقت)
ناک سے پانی بہنا یا ناک کا بند ہو جانا
آنکھوں میں خارش، سرخی اور پانی آنا
گلے میں خراش اور بار بار کھانسی آنا
سانس لینے میں دشواری یا سینے میں جکڑن محسوس ہونا
جلد پر خارش یا سرخ دھبے (Urtecaria) بننا

الرجی کی وجوہات (Causes)
ڈسٹ الرجی صرف مٹی سے ہی نہیں ہوتی، بلکہ مٹی کے اندر موجود کئی چیزیں اس کا سبب بنتی ہیں:
ڈسٹ مائٹس (Dust Mites): یہ مائیکروسکوپک (نہ نظر آنے والے) کیڑے ہوتے ہیں جو گھر کے گدوں، کارپٹ اور صوفوں کی دھول میں پائے جاتے ہیں۔
پالتو جانوروں کے بال اور خشکی (Pet Dander): گھر میں موجود بلیوں یا دیگر جانوروں کے باریک بال اور مردہ جلد۔
پھپھوندی (Mold): گھر کے نم آلود حصوں یا پرانی دیواروں پر جمنے والی فنگس۔
کاکروچ اور دیگر حشرات: کاکروچ کے فضلے اور ان کے مردہ اجسام کے باریک ذرات۔

احتیاطی تدابیر اور بچاؤ (Prevention)
الرجی کا بہترین علاج "احتیاط" ہے۔ درج ذیل تدابیر پر عمل کر کے آپ اس تکلیف سے محفوظ رہ سکتے ہیں:
ماسک کا استعمال: گھر سے باہر نکلتے وقت یا صفائی کرتے وقت ہمیشہ معیاری ماسک (جیسے N95 یا سرجیکل ماسک) کا استعمال کریں۔

گھر کی صفائی کا خاص طریقہ: گھر میں جھاڑو دینے کے بجائے گیلا پوتشا (Mopping) لگائیں تاکہ مٹی ہوا میں نہ اڑے۔ جھاڑن (Dusting) کے لیے بھی گیلا کپڑا استعمال کریں۔
کارپٹ سے پرہیز: بیڈ روم اور بیٹھک سے قالین (Carpets) ہٹا دیں، کیونکہ ان میں مٹی اور ڈسٹ مائٹس سب سے زیادہ جمع ہوتے ہیں۔
بستر کی صفائی: چادریں، تکیوں کے غلاف اور کمبل گرم پانی سے دھوئیں اور انہیں تیز دھوپ میں سکھائیں۔
بند گاڑی کا استعمال: سفر کے دوران گاڑی کے شیشے بند رکھیں تاکہ سڑک کی دھول اور مٹی اندر نہ آ سکے۔
بھاپ (Steam) لینا: ناک بند ہونے یا سانس کی نالیوں کی جکڑن کی صورت میں سادہ پانی کی بھاپ لیں۔

ڈاکٹر کا مشورہ
اگر الرجی کی علامات برقرار رہیں اور روزمرہ کے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہوں، تو خود سے ادویات (Self-Medication) لینے سے گریز کریں۔ الرجی کے مستقل علاج، انیلر کے صحیح استعمال اور سینے کے دیگر امراض کی تشخیص کے لیے فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم و چیسٹ اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔

رابطہ اور وقتِ ملاقات:
ڈاکٹر نعمان خان (چیسٹ اسپیشلسٹ)
شفاء ہسپتال، سیدو شریف، سوات
فون نمبر: 717-4967-0341

Address

Shifa Hospital Saidu Swat
Saidu Sharif

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923414967717

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Noman Khan chest specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr.Noman Khan chest specialist:

Shortcuts

Share