Dr.Noman Khan chest specialist

Dr.Noman Khan chest specialist Chest/Allergy/Asthma specialist |Analyst |Philanthropist |Social activist |Writer
(1)

سائنوسائٹس sinusitisسائنوسائٹس کا مطلب ہے سائنوس میں سوزش اور انفیکشناس کے باعث ناک میں بندش، چہرے میں درد یا دباؤ، اور ...
08/06/2026

سائنوسائٹس sinusitis
سائنوسائٹس کا مطلب ہے سائنوس میں سوزش اور انفیکشن

اس کے باعث ناک میں بندش، چہرے میں درد یا دباؤ، اور گاڑھی رطوبت کا اخراج جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

نیز بالغ اور بچے دونوں اس مرض سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایسی کسی بھی صورتحال میں فورا" ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
۔
۔

ہر قسم کے معاملے میں کسی بھی مشورے اور معائنے کے لیے اپوائنٹمنٹ کی بکنگ کے لیے رابطہ کریں۔
📞 0341-4967717
---------
📍کلینک ایڈریس: شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات

موسم گرما اور الرجی کے مسائلملک کے بیش تر حصوں میں موسمِ گرما اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف موسمِ گرما، بیرونی تفریح، ٹھنڈے م...
07/06/2026

موسم گرما اور الرجی کے مسائل

ملک کے بیش تر حصوں میں موسمِ گرما اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف موسمِ گرما، بیرونی تفریح، ٹھنڈے مشروبات اور طویل دھوپ والے دن کا وقت ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ وہ موسم بھی ہے، جب الرجی اور سانس کے مسائل بھڑک سکتے ہیں۔ ’’جرگ‘‘ سے لے کر دھول، آلودگی اور بڑھتی ہوئی نمی تک، گرمیوں کے مہینے تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں اور دمہ اور ’’گھاس بخار‘‘ جیسے حالات کو خراب کرسکتے ہیں۔ ان مسائل کو سنبھالنے اور ان سے بچاو کے طریقے کو سمجھنا آپ کو دھوپ کے موسم کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد کرے گا، جب کہ آپ کی سانس کی صحت برقرار رہے گی۔گرم موسم سانس کی نالیوں کی سوزش، پانی کی کمی اور آسان تھکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے، جس کا اثر سانس کے نظام پر پڑتا ہے، بہ شمول "COPD” (ایک بیماری جو تمباکو نوشی کرنے والوں میں عام ہے) کی وجہ سے ہوا کی نالی کی سوزش کی وجہ سے بڑھتا ہے۔پانی کی کمی تھوک کے اخراج کو مشکل بناتی ہے، تو دوسری طرف موسمِ گرما کے شروع میں ہوا میں ’’پولن‘‘ کا بوجھ زیادہ ہوگا، اس لیے یہ یوسنوفلیہ یعنی الرجی کا سبب بنے گا، جس کے بعد ’’برونکائٹس‘‘ یا ’’چیسٹ انفیکشن‘‘ کا امکان زیادہ ہوگا۔اس موسم میں ایئر کولرز، ایئر کنڈیشنرز اور ریفریجریٹرز کا زیادہ استعمال بالغوں اور بچوں کو اوپری سانس کی نالی کے انفیکشن کے ساتھ ساتھ "Atypical” نمونیا جیسے "Legionella” کا زیادہ خطرہ بناتا ہے۔

ان مسائل کو کیسے روکا جائے؟ اس میں غوطہ لگانے سے پہلے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پہلی جگہ ان کی وجہ کیا ہے؟ کئی عوامل موسمِ گرما میں الرجی اور سانس کے مسائل میں حصہ ڈالتے ہیں، بہ شمول:
**٭ پولن:۔** موسمِ بہار اور موسم گرما کے شروع میں، درخت، گھاس اور ماتمی لباس ہوا میں جرگ چھوڑتے ہیں۔ یہ جرگ حساس افراد میں الرجک ردِ عمل کو متحرک کرسکتا ہے۔ موسمِ گرما کے مہینوں میں پولن کی زیادہ مقدار گھاس بخار (الرجک رائنائٹس) کی ایک بڑی وجہ ہے، جس کی وجہ سے چھینکیں، ناک بہنا، آنکھوں میں خارش اور کھانسی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
**٭ فضائی آلودگی:۔** موسمِ گرما بھی ایک ایسا وقت ہے، جب فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ گرم موسم زمینی سطح پر اوزون اور سموگ کی اونچی سطح کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ یہ پھیپڑوں اور ایئر ویز میں جلن پیدا کرسکتا ہے، جس سے سانس کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، خاص طور پر دمہ یا سانس کی دیگر دائمی حالتوں میں مبتلا لوگوں کے لیے۔
**٭ نمی اور سڑنا:۔** موسمِ گرما کی گرمی اور نمی گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ سڑنا بڑھنے کے لیے بہترین ماحول بناسکتی ہے۔ مولڈ بیضہ تنفس کے مسائل کو متحرک کرسکتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں میں جن میں دمہ، الرجی، یا کم زور مدافعتی نظام ہے۔ نمی ہوا کو بھاری اور سانس لینے میں دشواری کا احساس دلا سکتی ہے۔**٭ دھول اور پالتو جانوروں کی خشکی:۔** بیرونی سرگرمیوں میں اضافے کا مطلب ہوا میں زیادہ دھول اور الرجی ہے۔ مزید برآں، بہت سے لوگ گرمیوں کے دوران میں پالتو جانوروں کے ساتھ باہر وقت گزارنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پالتو جانوروں کی خشکی کچھ افراد میں الرجی کا باعث بن سکتی ہے ۔ دھول کے ذرات، جو گرم، مرطوب ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، دمہ جیسے سانس کے حالات کو بھی خراب کرسکتے ہیں۔**٭ ائر کنڈیشن کے استعمال میں اضافہ:۔** اگرچہ ایئر کنڈیشن گرمیوں کی گرمی سے راحت کا باعث بن سکتی ہے، لیکن اگر فلٹرز کو باقاعدگی سے صاف نہ کیا جائے، تو یہ مسائل بھی پیدا کرسکتی ہے۔ گندے ایئر فلٹرز اندر دھول اور الرجی پھیلا سکتے ہیں، جس سے سانس کے مسائل مزید خراب ہو جاتے ہیں۔

**اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ موسم گرما کی الرجی اور سانس کے مسائل کو کیسے روکا جائے؟****

٭ ونڈوز کو بند رکھیں:۔** پولن کے چوٹی کے موسموں کے دوران میں (عام طور پر صبح سویرے یا دوپہر کے آخر میں) یہ ضروری ہے کہ اپنی کھڑکیاں بند رکھیں گھر اور گاڑی دونوں میں۔

**٭ پولن کی گنتی کی نگرانی کریں:۔**

باہر جانے سے پہلے اپنے علاقے میں پولن کی گنتی چیک کریں۔ کئی موسمی ایپس اور ویب سائٹس روزانہ پولن کی پیشین گوئی فراہم کرتی ہیں۔**

٭ بیرونی سرگرمیوں کے بعد شاور لیں اور کپڑے تبدیل کریں:۔** باہر وقت گزارنے کے بعد، یہ ضروری ہے کہ آپ کے جسم اور
کپڑوں پر جمی ہوئی آلودگی یا دھول کو ہٹا دیں۔ اپنے گھر کو صاف ستھرا اور دھول سے پاک رکھیں۔ اپنے گھر کو الرجین سے پاک رکھنے کے لیے باقاعدہ صفائی ضروری ہے۔**٭ ایئر پیوریفائر استعمال کریں:۔** "HEPA” فلٹر والا ہوا صاف کرنے والا آپ کے گھر کی ہوا سے الرجین، جیسے جرگ، دھول اور پالتو جانوروں کی خشکی کو دور کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔**٭ ہائیڈریٹڈ رہیں:۔** گرمیوں کے مہینوں میں وافر مقدار میں پانی پینا بہت ضروری ہے۔ ہائیڈریٹ رہنے سے بلغم کو پتلا کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے آپ کے ایئر ویز کو صاف کرنا آسان ہوجاتا ہے۔**٭ اندرونی نمی کا انتظام کریں:۔** نمی سڑنا اور دھول کے ذرات کی نشو و نما میں اضافہ کرسکتی ہے، جو سانس کی حالت کو بڑھا سکتی ہے۔**٭ تجویز کردہ ادویہ لیں:۔** اگر آپ موسمی الرجی یا دمہ کا شکار ہیں، تو اپنی علامات کو سنبھالنے کے لیے اپنے ڈاکٹر کی سفارشات پر عمل کرنا یقینی بنائیں۔ اس میں اینٹی ہسٹامائنز، ناک کے اسپرے، یا انہیلر کا استعمال شامل ہوسکتا ہے۔**٭ فضائی آلودگی سے اپنے آپ کو بچائیں:۔** اعلا فضائی آلودگی یا اوزون کی سطح والے دنوں میں، بیرونی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کریں۔**٭ پالتو جانوروں کو صاف رکھیں:۔** اگر آپ کے پاس پالتو جانور ہیں، تو آپ کے گھر میں پالتو جانوروں کی خشکی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے باقاعدگی سے تیار کرنا اور غسل کرنا ضروری ہے۔اس موسمِ گرما میں تازہ ہوا کا لطف اُٹھائیں۔ موسمِ گرما کا مطلب یہ نہیں کہ آپ الرجی یا سانس کے مسائل میں مبتلا ہوں۔ اپنے ماحول کو سنبھالنے اور اپنے آپ کو الرجین سے بچانے کے لیے اقدامات کرکے آپ اپنی صحت کی فکر کیے بغیر موسم کا بھرپور لطف اٹھا سکتےہیں

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

07/06/2026
ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹکلینک پتہشفاء ہسپتال سیدو شریف سواتٹائم صبح 10 تا شام 4📞0341-4967717
07/06/2026

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
کلینک پتہ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات

ٹائم صبح 10 تا شام 4

📞0341-4967717

مسکراہٹ کو برقرار رکھنا اور ہر مریض خاص طور پر غریب کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے، چاہے ان کے حالات کچھ ب...
07/06/2026

مسکراہٹ کو برقرار رکھنا اور ہر مریض خاص طور پر غریب کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے، چاہے ان کے حالات کچھ بھی ہوں۔ ہمارا ہمدردانہ نقطہ نظر ان لوگوں کے لیے امید کی واحد کرن ہے جو اپنی آخری سانسوں کے دہانے پر ہیں۔

®ڈاکٹر نعمان خان

 حمل اور دمہ:کیا حمل کے دوران دمہ کی علامات تبدیل ہوجاتی ہیں؟ کبھی کبھی حمل کے دوران ، مریض کی دمہ کی علامتیں بہتر ، خرا...
07/06/2026


حمل اور دمہ:

کیا حمل کے دوران دمہ کی علامات تبدیل ہوجاتی ہیں؟ کبھی کبھی حمل کے دوران ، مریض کی دمہ کی علامتیں بہتر ، خراب ہو سکتی ہیں یا حمل سے پہلے کی طرح رہ سکتی ہیں۔

کیا حمل کے دوران دمہ کی دوائیں محفوظ ہیں؟
جی ہاں. حمل کے دوران دمہ کی زیادہ تر دوائیں محفوظ ہیں۔ اگر حمل کے دوران آپ کی دمہ کی دوائیں محفوظ نہیں ہیں تو ، آپ کا ڈاکٹر انہیں تبدیل کردے گا۔ آپ کے دمہ کو اچھی طرح سے برقرار رکھنے کے لئے دمہ کی تمام دوائیں لینا ضروری ہے۔ اگر آپ دمہ کی دوائیں چھوڑ دیتے ہیں تو ، آپ کو دمہ کا اٹیک ہونے کا زیادہ امکان رہتا ہے۔ دمہ کے بڑھنے سے آپ اور آپ کے بچے کو صحت کی سنگین پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حمل کے دوران کون سے ڈاکٹر اور نرس میری دیکھ بھال کریں گی؟
حمل کے دوران آپ کی دیکھ بھال کے لیے آپ کو کچھ دو ڈاکٹروں کی ضرورت ہو گی۔ عام طور پر ، 1 ڈاکٹر آپ کی حمل کی دیکھ بھال کرے گا۔ اور ڈاکٹر دیکھیں گے جو آپ کے دمہ کی دیکھ بھال کرسکتا ہے۔

کیا حمل کے دوران میرے ٹیسٹ ہوں گے؟
جی ہاں. آپ کے پھیپھڑوں کے ٹیسٹ ہوں گے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ دمہ کا کنٹرول کیسا ہے۔

حمل کے دوران دمہ کی علامات سے بچنے کے لئے میں اور کیا کرسکتی ہوں؟
دمہ کی علامات سے بچنے میں مدد کے لیے آپ دمہ کے محرکات سے پرہیز کریں - محرکات ایسی چیزیں ہیں جو دمہ کی علامت کا سبب بنتی ہیں یا علامات کو خراب کرتی ہیں۔ عام محرکات خاک ، سگریٹ کا دھواں ہیں۔

اگر مجھے دمہ ہے تو کیا میں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہوں؟
جواب ہمیشہ "ہاں" میں ہی ملتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو دودھ پلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر یا نرس کو بتائیں۔ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آپ دودھ پلاتے ہیں تو آپ کو دمہ کی دوائیں محفوظ ہیں۔ دودھ پلانا بچوں میں دمہ سے پوری طرح روکتا نہیں ہے۔ لیکن ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں پہلے 2 سالوں کے دوران دمہ ہونے کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

زندگی کے شور میں، تھوڑا سا سکون ڈھونڈ لیجیے !!!!کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے زندگی ایک دوڑ ہے۔ ہر طرف شور، ہر طرف دباؤ، ہر...
06/06/2026

زندگی کے شور میں، تھوڑا سا سکون ڈھونڈ لیجیے !!!!

کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے زندگی ایک دوڑ ہے۔ ہر طرف شور، ہر طرف دباؤ، ہر دن ایک جنگ۔ اور ہم؟ ہم بس چلتے جا رہے ہیں، رکے بغیر، سوچے بغیر…
لیکن کیا کبھی آپ نے خود سے پوچھا ہے، "میں کہاں جا رہا ہوں؟ اور کیوں؟"

روز مرہ کے شور سے کچھ لمحے چُرائیں، اور صرف خود کے ساتھ رہیں۔
آپ کے لیے چند سادہ لیکن جادو جیسے نسخے:
________________________________________
🧠 ذہنی سکون کے لیے:
• مثبت سوچ اپنائیں۔ ہر حال میں خیر دیکھیں، یہ مشق ہے — آہستہ آہستہ آتی ہے۔
• نیند پوری کریں۔ ایک تھکا دماغ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ روزانہ 7-8 گھنٹے ضرور سوئیں۔
• منفی خیالات کو آہستہ آہستہ رخصت کریں۔ وہ آوازیں جو آپ کو مایوس کرتی ہیں، انہیں "خدا حافظ" کہیے۔
________________________________________
💪 جسمانی صحت کے لیے:
• اچھی غذا کھائیں۔ سبزیاں، پھل، پروٹین — یہ آپ کے جسم کو وہ توانائی دیتی ہیں جو صرف کافی یا چائے نہیں دے سکتی۔
• روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کریں، لیکن خود پر زور نہ ڈالیں۔ 15-30 منٹ کا چہل قدمی بھی کافی ہے۔
• پانی زیادہ پئیں۔ کم از کم 8 گلاس۔ جسم بھی تو تھکتا ہے، اسے بھی سکون دیں۔
________________________________________
🌿 روح کے لیے سکون:
• کبھی کبھار ایک جیسی دیواروں سے نکل کر سیر پر جائیں۔ قریبی گاؤں، پہاڑ، دریا… کچھ بھی۔ فطرت کا لمس روح کو تازہ کرتا ہے۔
• دوستوں کے ساتھ چائے پر بے مقصد گپ شپ لگائیں — بغیر کسی ایجنڈے کے۔
• ان لوگوں سے ملیں جن سے بات کر کے دل خوش ہو جائے۔
• نماز پڑھیں — لیکن صرف رسم نہ ہو، دل سے ہو۔
• فجر سے کچھ پہلے اٹھیں، سکوت میں، تنہائی میں… اللہ سے دل کی بات کریں۔ وہ سنتا ہے — خاموشی میں بھی۔
________________________________________
یاد رکھیے…
زندگی ایک جنگ نہیں، ایک سفر ہے۔ اور یہ سفر صرف دوڑ کر مکمل نہیں ہوتا۔
کہیں کہیں رکنا بھی سیکھیں…
سانس لینا، محسوس کرنا، اور جینا سیکھیں۔
خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر ٹھنڈا رکھیں… کیونکہ یہی اصل زندگی ہے۔

®ڈاکٹر نعمان خان

ایک ڈاکٹر کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی نہیں ہوتی کہ اس کا مریض صحت یاب ہو کر اپنے گاؤں لوٹے۔ سہیل نامی مریض جس کا...
06/06/2026

ایک ڈاکٹر کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی نہیں ہوتی کہ اس کا مریض صحت یاب ہو کر اپنے گاؤں لوٹے۔ سہیل نامی مریض جس کا تعلق مینگورہ سے ہے میرے پاس سانس پھولنے اور کھانسی کی تکلیف کے ساتھ آیا تھا۔ ضروری ٹیسٹ اور ایکس ری کے بعد پتا چلا کہ مریض کے ایک پھیپھڑے میں پانی جما ہوا ہے اور اس کے بعد ٹی بی کی تشخیص ہوئی۔ آپ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح صحیح وقت پر صحیح علاج کرنے سے مریض کے پھیپھڑوں سے پانی ختم ہوا اور ٹی بی کا بروقت علاج کرنے سے اس کی زندگی معمول پر لوٹ آئی۔ الٹے ہاتھ والا ایکس ری میں سفید دھندلا رنگ پانی کی نشان دہی کرتا ہے جبکہ دائیں طرف والا ایکس ری ٹی بی کا علاج پورا کرنے پر ہوا ہے جو کہ بالکل نارمل ہے۔ سانس پھولنے، وزن کم ہونے، اور نا ختم ہونے والی کھانسی کی صورت میں آج ہی اپنے معالج سے اپنا معائنہ کرایں کیونکہ صحت مند پھیپھڑے صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں۔

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ سپیشلسٹ
شفا ہاسپٹل سیدو شریف سوات 0341-4967717

!!!! ہم ڈاکٹر انسان ہیں۔۔۔ خدا نہیں پسِ منظر: مسیحائی کا بوجھ اور معاشرتی توقعاتہمارے معاشرے میں ڈاکٹر کو 'مسیحا' کا درج...
06/06/2026

!!!! ہم ڈاکٹر انسان ہیں۔۔۔ خدا نہیں

پسِ منظر: مسیحائی کا بوجھ اور معاشرتی توقعات

ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر کو 'مسیحا' کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ رتبہ بلاشبہ ایک اعزاز ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اعزاز ایک ایسا بھاری بوجھ بن چکا ہے جس تلے ڈاکٹروں کی انسانی حیثیت دب کر رہ گئی ہے۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ سفید کوٹ پہننے سے خون اور گوشت کا بنا ہوا انسان فرشتہ یا معبود نہیں بن جاتا۔ مریض اور ان کے لواحقین یہ توقع رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس ہر بیماری کا یقینی علاج ہو، ہر مرتے ہوئے کو زندگی دینے کا جادو ہو، اور اس سے کبھی کوئی خطا سرزد نہ ہو۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

علم کی حد اور انسانی بے بسی
ایک ڈاکٹر برسوں راتوں کی نیندیں حرام کر کے، کتابوں کے انبار چھان کر اور ہسپتالوں کے وارڈز میں خوار ہو کر طبی مہارت حاصل کرتا ہے۔ وہ انسانی جسم کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس تمام علم اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود، کائنات کا ایک اٹل قانون ہے: "شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔"

ڈاکٹر صرف ایک وسیلہ ہے، ایک کوشش کا نام ہے۔ وہ نسخہ لکھ سکتا ہے، سرجری کر سکتا ہے، اپنی پوری جان لڑا سکتا ہے، لیکن زندگی کی ڈور کو دراز کرنا یا موت کے فرشتے کو روکنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ جب تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی مریض جانبر نہیں ہو پاتا، تو وہ ڈاکٹر کی نااہلی نہیں بلکہ انسانی علم کی آخری حد اور اللہ کی رضا ہوتی ہے۔

سفید کوٹ کے پیچھے چھپا انسان
لوگ ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کو مستعد، سنجیدہ اور بعض اوقات خاموش دیکھتے ہیں، لیکن اس کوٹ کے پیچھے چھپے انسان کے جذبات سے بے خبر ہوتے ہیں۔

تھکن اور ذہنی دباؤ: چھتیس چھتیس گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹیاں، نیند کی کمی، اور اپنے خاندان کو وقت نہ دے پانے کا دکھ۔
احساسِ ذمہ داری: کسی مریض کی حالت بگڑنے پر جو خوف اور دباؤ ایک ڈاکٹر محسوس کرتا ہے، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

دل کا دکھ: جب ایک معصوم بچہ یا کسی گھر کا واحد کفیل ڈاکٹر کے ہاتھوں میں دم توڑتا ہے، تو ڈاکٹر کا دل بھی روتا ہے۔ وہ راتوں کو سو نہیں پاتا، لیکن اگلی صبح اسے پھر مسکرا کر نئے مریضوں کو حوصلہ دینا ہوتا ہے۔

معاشرتی رویے اور تشدد کا رجحان
آج کل ایک المناک رجحان یہ چل پڑا ہے کہ ہسپتال میں اگر کسی مریض کی موت واقع ہو جائے، تو فوری طور پر اس کا ملبہ ڈاکٹر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ "غفلت" کا لیبل لگانا سب سے آسان کام بن چکا ہے۔ توڑ پھوڑ، گالی گلوچ اور ڈاکٹروں پر تشدد کے واقعات روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔

لواحقین کا غم سر آنکھوں پر، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی ڈاکٹر جان بوجھ کر کسی کی جان نہیں لیتا۔ ایک مریض کی موت ڈاکٹر کے کیریئر اور ضمیر پر بھی ایک گہرا زخم چھوڑ جاتی ہے۔ اگر معاشرہ ڈاکٹروں کو انسان سمجھنے سے انکار کر دے گا، تو خوف کے مارے طبیب پیچیدہ کیسز ہاتھ میں لینا ہی چھوڑ دیں گے، جس کا نقصان بالآخر انسانیت ہی کو ہوگا۔
توازن کی ضرورت: حق اور فرض

یہ بات درست ہے کہ ہر شعبے کی طرح طب میں بھی کچھ کالی بھیڑیں موجود ہو سکتی ہیں جن کا رویہ کاروباری یا غافلانہ ہو، اور ان کا محاسبہ بالکل ہونا چاہیے۔ لیکن اکثریت ان ڈاکٹروں کی ہے جو محدود وسائل، ادویات کی کمی اور ناموافق حالات کے باوجود دن رات انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹر کوئی جادوگر نہیں ہے جس کے پاس آبِ حیات ہو۔ وہ ایک انسان ہے جو غلطی بھی کر سکتا ہے، جو تھک بھی سکتا ہے، اور جو کائنات کے نظام کے سامنے اتنا ہی بے بس ہے جتنا کہ کوئی دوسرا انسان۔

حاصلِ کلام
"ہم ڈاکٹر انسان ہیں، خدا نہیں"۔ یہ جملہ کسی ذمہ داری سے فرار کا بہانہ نہیں، بلکہ ایک عاجزانہ سچائی ہے۔ ڈاکٹر کا کام ایمانداری، ہمدردی اور اپنی پوری مہارت کے ساتھ علاج کرنا ہے۔ وہ اپنا فرض نبھانے کا پابند ہے، نتیجے کا نہیں۔

میڈیکل سائنس جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں سے معجزات شروع ہوتے ہیں، اور معجزے کرنا صرف اللہ پاک کا کام ہے۔ اگر معاشرہ ڈاکٹروں کو انسان سمجھ کر ان کی حدود کا احترام کرے اور انہیں عزت و تحفظ فراہم کرے، تو وہ زیادہ سکون اور دلجمعی کے ساتھ 'مسیحائی' کا یہ کٹھن سفر جاری رکھ سکیں گے۔

ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

بلغم اور کھانسی بیماری نہیں ہیں...!بلغم کیا ہے اکثر لوگ بلغم اور کھانسی کو بیماری سمجھ کر ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں،لیک...
06/06/2026

بلغم اور کھانسی بیماری نہیں ہیں...!
بلغم کیا ہے

اکثر لوگ بلغم اور کھانسی کو بیماری سمجھ کر ان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں،
لیکن حقیقت میں یہ دونوں آپ کے جسم کے محافظ ہیں۔ یہ جراثیم اور آلودگی کو جکڑ کر جسم سے باہر نکالنے کا کام کرتے ہیں۔

بلغم اور کھانسی کو دو چوکیدار سمجھیں جو چوروں کو پکڑ کر باہر نکالتے ہیں ۔ مگر ہم بجائے ان کی مدد کرنے کے، انہیں بیماری سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اصل مجرم تو وہ جراثیم ہیں جو سانس کے ذریعے اندر داخل ہوتے ہیں۔ بلغم انہیں جکڑ لیتا ہے اور کھانسی زور لگا کر باہر نکال دیتی ہے۔ یہ دونوں مل کر آپ کے سینے کو صاف رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ بار بار کیوں ہوتا ہے؟
دراصل جراثیم اور فضائی اور غذائی آلودگی ہی اس کی اصل وجہ ہیں۔ اگر نزلہ، زکام یا کھانسی بار بار ہو رہی ہو، تو یہ دیکھیں کہ آلودگی کہاں سے آ رہی ہے.. ؟

اپنے ماحول کا جائزہ لیں۔
گھر، دفتر یا وہ جگہ جہاں آپ زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہاں ایسے کون سے عوامل ہیں جو جراثیم اندر لے جا رہے ہیں؟ یہ غذائی یا فضائی آلودگی ہو سکتی ہے۔

بلغم اور کھانسی سے جان چھڑانے کی بجائے ان کی مدد کریں تاکہ وہ اپنا کام بہتر انداز میں کر سکیں۔

پانی زیادہ پئیں، خاص کر نیم گرم پانی۔

نمک والے پانی سے غرارے کریں۔

سیب کا سرکہ پانی میں ملا کر پئیں۔

ہلدی والے پانی کی بھاپ لیں۔

کمر پر تھپتھپائیں یعنی Tapping کریں.

سوتی لباس پہنیں

اپنا تکیہ کور تین دن بعد تبدیل کریں

مصنوعی کیمیکل، خوشبو، غذائیں استعمال نہ کریں

یاد رکھیں،
کھانسی اور بلغم آپ کے دوست ہیں،
جو اندرونی جراثیم کو نکالنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ ان جراثیم کا ہے جو ماحول سے آپ کے جسم میں آتے ہیں۔

لہٰذا توجہ ان وجوہات کو ختم کرنے پر دیں جو جراثیم کو اندر لا رہی ہیں۔ جب ان کا راستہ رکے گا، تو کھانسی اور بلغم بھی ختم ہو جائیں گے اور آپ سکون میں رہیں گے۔

®ڈاکٹر نعمان خان چیسٹ اسپیشلسٹ
شفاء ہسپتال سیدو شریف سوات
0341-4967717

Address

Shifa Hospital Saidu Swat
Saidu Sharif

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923414967717

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Noman Khan chest specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr.Noman Khan chest specialist:

Share