16/07/2026
جاڑے کے سخت دن ، بھینی بھینی سی سورج کی تپش لیکن نئے دور کی حدت تھی۔ دسمبر تھا اکیسویں صدی کے اکیسویں سال کا اور تاریخ چار تھی۔ چہروں پر رونک تو تھی، مگر اداسی سی تھی، اجنبی پن کی، نا ناموں سے واقفیت، نا دلوں سے رغبت، تب تو بس لوگ تھے، نا کوئی استاد تھا ، نا شاگرد ، نا تو کوئی دوست تھا۔
وقت نے اپنی رفتار برقرار رکھتے ہوئے ، کبھی شفقت دکھائی اساتذہ کی ، کبھی راہنمائی دکھائی کالج سربراہ کی ، کبھی ہزاروں پل جیے ایک ہی دن میں، کبھی ایک ہی دن ہزاروں لمحوں پر بھاری۔ یہاں ایک دہائی کا آدھا حصہ صرف گزرا نہیں، بلکہ ایک ایک عام آدمی کو فارماسسٹ کا درجہ ملا ہے ۔
کبھی ہم پرنسپل کی راہنمائی میں سیفران فارما ، کبھی کھیلوں کا دن، کبھی یونیورسٹی، کبھی مختلف سیمینار، کبھی تقریر و تحریری مقابلہ جات ، کبھی پروجیکٹس ، کبھی نمائشی ماڈلز اور کبھی مارگلہ کی پہاڑیوں کو جیا۔ اسی درو دیوار سے پہلے دو سال تک نا واقفیت کی بنا پر کڑھنے والوں کو اسی درو دیوار اور اس میں بسنے والے اساتذہ و دوسرے عملے نے اتنا کچھ دیا کہ کل کی یہ ناواقفیت اپنائیت میں بدل گئی، جب کہ اب جانے کا وقت آیا تو سوچتا ہوں کہ بڑے لکڑی والے دروازے کو عبور کرنے کے بعد دائی طرف کے پہلے کمرے کا دروازہ کھلتے ہی وہ مسکراتا چہرہ کیسے دیکھنے کو ملے گا ۔ وہ کلاس کی شور شرارت، وہ آپس میں بیٹھ کر خوش گپیا کیسے ملے گی، وہ بات بات پر روٹھ کر کون منائے گا ، وہ کبھی دوپہر میں صبح کا ناشتہ، وہ ایک ایک چیز کے لیے مل کر کون ، کہا ، کیسے پیسے اکٹھا کریگا۔ وہ صبح آنکھ کھلتے ہی کالج جانے کا احساس کیسے آئے گا ۔ وہ کاشف صاحب کی آرگینک ، میم مومنہ کی بائیو کیمسٹری، سجاد صاحب کی اناٹمی ، منیب صاحب کی انالسز ، میم وجیہہ کی فارماکولوجی ، میم روما کی لائبریری، ظفر صاحب کی فورینسک، انیس صاحب کی ڈوزج فارم ، میم ثمن ساجد کی کوگنوسی ، میم سارا کی میڈیسنل ، میم ثناء کی انڈسٹریل ، میم صبا کی فورینسک، میم رضوانہ کی فزیکل فارمیسی ، بلال صاحب کی فیزیو , ذیشان صاحب کی پاک سٹڈیز، پرویز صاحب کی سٹیٹس اور پیارے بچے ، عثمان صاحب کی ریاضی ، آفریدی صاحب کا دھوپ کی بجائے کلاس میں کالا چشمہ اور سافٹ اسائنمنٹ، مجاہد صاحب کی اوپر سے گزر جانے والی پیتھالوجی , قاسم صاحب کی انگریزی اور مولوی صاحب کا ترجمہ قرآن، اقبال صاحب کا کوڈ ، عمر و عبد الرحمن صاحب کی لیبز, عمر صاحب کی فیس کے چکر ، عمیر حسنات کی لکھی ہوئی سلپس ، علی ایوب صاحب کی آرگنائزیشن ، ثمی بھائی کی چوکیداری، اور عبداللہ اور بزرگوں کے پیغامات، وہ میم مریم کا کونسٹینٹ چہرہ ، میم ثمن کا نان سٹاپ بولنا ، وہ کلاس کی پریزنٹیشن، وہ نا مکمل سوالات کے مکمل جوابات، وہ پول کی مستیاں، وہ ڈھابوں کی روٹیاں، وہ کنٹین کی سموسیاں ، وہ میم پرنسپل کے آآآآ سے شروع ہونے والے وائس نوٹیفیکیشن، وہ کبھی لڑائیاں، کبھی بڑھائیاں، کبھی برتھڈے پارٹی تو کبھی مل کے سوگواری ، کہا ، کہا سے ملے گی یہ یاری۔
دیکھتے دیکھتے گزر گئے یہ پانچ سال، اب وقت تو بچھڑنے کا ہے ، رو رو کے جینے کا ہے ، انھیں آنسوؤں کو پی کر ، آگے بڑھنے کا ہے۔ مگر کیسے ؟ کیا یہ شفقت کبھی مل پائے گی ، کیا یہ وقت اپنے آپ کو دھرائے گا ۔ یاد تو بہت آئے گا ، دل کو تڑپائے گا ، دل خون کے آنسوں روئے گا ، جب وقت بھی ہوگا ، پیسہ عیش و عشرت بھی ہوگی ، یہ سب لوگ ایک جگہ نہ ہونگے ، یہ دیواریں تو ہونگی ان میں ہم نہ ہونگے ، یہ اساتذہ تو یہاں ہونگے مگر ہم سے طالب نہ ہونگے۔
میں اپنے اور تمام تر طلباء و طالبات کی طرف سے میم پرنسپل اور تمام تر اساتذہ کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ مثل شمع جلے اور ہم مستفید ہوتے رہیں ۔ اپ نے ہر موڑ پر راہنمائی دی اور سیدھی راہ دکھائی۔ ہم کچھ نہ تھے، لیکن آج الحمد للّٰہ فارماسسٹ ہیں، صرف اور صرف آپ اساتذہ کی وجہ سے ۔
اگر زندگی کو سکوت ملے تو وہ موت ہے بس ، جمود ہے تو زندگی ہے ، سورج بھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا تو انسان کیا ہے، میرے بھائیو اور بہنو آگے بڑھنا ، ہمارا آپس میں نہیں بلکہ ایک ہوکر دوسروں سے مقابلہ ہے۔
دعا ہے اللہ اس کالج ، اساتذہ اور اس کالج سے پاس آوٹ ہونے والے تمام تر طلباء طالبات کو حقیقی کامیابیاں عطا فرمائے ۔
شکریہ آئی ایل ایم کالج آف فارماسیوٹیکل سائنسز سرگودھا
شکریہ پرنسپل میم ڈاکٹر رضوانہ
شکریہ تمام تر اساتذہ
شکریہ میرے عزیز دوستوں
تحریر: محمد حمزہ ظفر (2021-VA-196)
بتاریخ: 8 جولائی 2026