15/08/2026
وہ جیل میں ملنے آئی اور ایک جملہ کہا اور مرد لاجواب ہو گیا۔
وہ ایک جسم فروش عورت تھی۔
ایک امیر آدمی کو دل میں نیکی کا خیال آیا۔ اس نے ہاتھ تھاما، اس گندگی سے نکالا، عزت سے نکاح کیا۔ گھر دیا، نام دیا، ہر خوشی دی۔
پھر وقت بدلا۔ وہی مرد کرپشن میں پکڑا گیا اور سلاخوں کے پیچھے۔
عورت ملنے آئی۔ سلاخوں کے پیچھے ہاتھ تھاما اور بس اتنا کہا:
"اگر حرام ہی کھلانا تھا... تو میری کمائی میں کیا برائی تھی؟"
مرد کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
اور آج ہمارے معاشرے کی حقیقت یہ ہے:
سرکاری دفتر ہو یا کوٹھا... دونوں جگہ اے سی دھاڑیں مار رہے ہیں۔
دونوں کا بل کوئی اور دیتا ہے۔
کوٹھے کا بل گاہک دیتا ہے، سرکاری دفتر کا بل عوام کے ٹیکس سے جاتا ہے۔
جب خرچ اپنی جیب سے نہ ہو تو حرام بھی حلال لگنے لگتا ہے، اور فضول خرچی بھی بری نہیں لگتی۔
سوچنے کا مقام ہے۔