09/08/2026
گورکھ پان
سائنسی نام
Euploca strigosa
گورکھ پان ایک خودرو جڑی بوٹی ہے، جسے مختلف علاقوں میں چڑی پنجہ اور پان چونی بوٹی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ بوٹی عموماً بارشوں کے بعد کھیتوں، تالابوں اور ندی نالوں کے کناروں، میدانی و ریتلی علاقوں اور ویران مقامات پر بکثرت اُگتی ہے۔
شناخت
یہ ایک زمین پر پھیلنے والی (Ground-hugging) باریک بوٹی ہے۔
اس کی نہایت پتلی، تنکے جیسی شاخیں جڑ کے قریب سے نکل کر چاروں طرف بچھ جاتی ہیں۔
ان شاخوں پر چھوٹے، باریک اور سبز پتے لگے ہوتے ہیں، جن کی شکل چاول کے دانوں سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔
پھول
اس پر نہایت چھوٹے، سفید رنگ کے خوبصورت کٹوری نما پھول کھلتے ہیں۔
موسم سرما، خصوصاً دسمبر کی سردی میں، پودا عموماً خشک ہو جاتا ہے۔
نام کی وجہ
ایک مقامی روایت کے مطابق اس بوٹی کا تعلق گورو گورکھ ناتھ سے جوڑا جاتا ہے، اسی نسبت سے پنجاب کے بعض علاقوں میں اسے گورکھ پان کہا جاتا ہے۔ اگرچہ نباتاتی اعتبار سے اس کا عام پان (Piper betle) سے کوئی تعلق نہیں، لیکن مقامی روایت اور ظاہری خصوصیات کی بنا پر یہ نام رائج ہو گیا ہے۔
شناخت کی ایک روایتی علامت
اس بوٹی کے پتوں کو چبانے کے بعد تھوک میں سرخی مائل رنگ ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح پتوں کو کچھ دیر پانی میں بھگونے سے بھی پانی میں ہلکی سرخی پیدا ہوتی ہے۔
یہ مشاہدات بعض علاقوں میں شناخت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، تاہم حتمی شناخت ہمیشہ پودے کی مکمل نباتاتی خصوصیات کی بنیاد پر ہی کی جانی چاہیے۔
مزاج
سرد و خشک
افعال و خواص
روایتی طب کے مطابق گورکھ پان کو مصفیِ خون قرار دیا گیا ہے اور اسے پھوڑے، پھنسیاں اور بعض جلدی مسائل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم ان روایتی استعمالات کی جدید سائنسی تحقیق ابھی محدود ہے، اس لیے اسے علاج کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے مستند معالج سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔
آپ کے علاقے میں اس بوٹی کو کس نام سے جانا جاتا ہے؟
اپنی رائے اور مقامی نام کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔
عبدالکریم آزاد
Abdul Karim Azad