11/07/2026
ڈاکٹر محمد قاسم عمر | نیفرولوجسٹ
اکثر یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ جدید طب (Modern Medicine)، جسے عرفِ عام میں لوگ "ایلوپیتھی" کہتے ہیں، کسی بھی بیماری کا حتمی علاج نہیں کرتی، بلکہ صرف علامات (Symptoms) کو دبا دیتی ہے، جبکہ متبادل طریقۂ علاج بیماری کی "جڑ" ختم کرتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ ایک علمی مغالطہ ہے۔
اگر ہم طب کی تاریخ پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار بیماریاں ایسی ہیں جن کا جدید طب نے نہ صرف مؤثر علاج دریافت کیا بلکہ بعض کو دنیا سے تقریباً ختم ہی کر دیا۔
چند نمایاں مثالیں دیکھیے:
طاعون (Plague) ایک وقت میں انسانیت کے لیے خوف کی علامت تھا، مگر آج اس کے مریض ش*ذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
چیچک (Smallpox) ایک ایسی وبا تھی جس نے کروڑوں جانیں لیں۔ میں نے اپنے بچپن میں چیچک کے داغ والے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، مگر آج دنیا سے اس بیماری کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
ملیریا کبھی لا علاج سمجھا جاتا تھا، جبکہ آج مناسب علاج سے چند دنوں میں اکثریت صحت یاب ہو جاتی ہے۔
تپِ دق (TB) بھی ایک زمانے میں جان لیوا اور لا علاج بیماری سمجھی جاتی تھی، مگر آج تقریباً چھ ماہ کے علاج سے اکثر مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اردگرد بے شمار لوگ ایسے ہیں جو ٹی بی کا علاج مکمل کر کے معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بیماریاں صدیوں تک انسانیت کو متاثر کرتی رہیں، لیکن جب ان کی اصل وجہ سمجھ میں آئی تو ایسے مؤثر علاج اور ویکسینز سامنے آئیں کہ بعض بیماریاں دنیا سے ختم ہو گئیں اور بعض صرف چند محدود علاقوں تک رہ گئیں۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ جدید طب کسی بیماری کا حتمی علاج نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی بیماری کی اصل وجہ دریافت ہو جائے تو بہت سے امراض کا مستقل اور مؤثر علاج ممکن ہو جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات بیماری دنیا سے ہی ختم ہو جاتی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر دائمی بیماریوں کا مستقل علاج ابھی تک کیوں موجود نہیں؟
اس موضوع پر میں ایک الگ تفصیلی پوسٹ لکھوں گا۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ بیماریاں بڑی حد تک جدید طرزِ زندگی (Lifestyle Disorders) کا نتیجہ ہیں، اور موجودہ دور میں ان کا سب سے مؤثر علاج بھی طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں سائنس ان بیماریوں کے بارے میں بھی مزید واضح اور مؤثر حل پیش کرے گی۔ لیکن فی الحال، ان سے بچاؤ اور ان پر قابو پانے کا سب سے مضبوط ہتھیار صحت مند طرزِ زندگی ہی ہے۔
ڈاکٹر محمد قاسم عمر
نیفرولوجسٹ