Dr. Qasim Umer Nephrologist ڈاکٹر قاسم عمر ماہر امراض گردہ

Call Directions Contact the business

Dr. Qasim Umer Nephrologist ڈاکٹر قاسم عمر ماہر امراض گردہ Dr. Muhammad Qasim Umer is a consultant Nephrologist.He deals in Diabetes, Hypertension, Kidney diseases, and kidney transplant medicine.

ڈاکٹر محمد قاسم عمر | نیفرولوجسٹاکثر یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ جدید طب (Modern Medicine)، جسے عرفِ عام میں لوگ "ایلوپ...
11/07/2026

ڈاکٹر محمد قاسم عمر | نیفرولوجسٹ
اکثر یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ جدید طب (Modern Medicine)، جسے عرفِ عام میں لوگ "ایلوپیتھی" کہتے ہیں، کسی بھی بیماری کا حتمی علاج نہیں کرتی، بلکہ صرف علامات (Symptoms) کو دبا دیتی ہے، جبکہ متبادل طریقۂ علاج بیماری کی "جڑ" ختم کرتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ ایک علمی مغالطہ ہے۔
اگر ہم طب کی تاریخ پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار بیماریاں ایسی ہیں جن کا جدید طب نے نہ صرف مؤثر علاج دریافت کیا بلکہ بعض کو دنیا سے تقریباً ختم ہی کر دیا۔
چند نمایاں مثالیں دیکھیے:
طاعون (Plague) ایک وقت میں انسانیت کے لیے خوف کی علامت تھا، مگر آج اس کے مریض ش*ذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
چیچک (Smallpox) ایک ایسی وبا تھی جس نے کروڑوں جانیں لیں۔ میں نے اپنے بچپن میں چیچک کے داغ والے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، مگر آج دنیا سے اس بیماری کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
ملیریا کبھی لا علاج سمجھا جاتا تھا، جبکہ آج مناسب علاج سے چند دنوں میں اکثریت صحت یاب ہو جاتی ہے۔
تپِ دق (TB) بھی ایک زمانے میں جان لیوا اور لا علاج بیماری سمجھی جاتی تھی، مگر آج تقریباً چھ ماہ کے علاج سے اکثر مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اردگرد بے شمار لوگ ایسے ہیں جو ٹی بی کا علاج مکمل کر کے معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بیماریاں صدیوں تک انسانیت کو متاثر کرتی رہیں، لیکن جب ان کی اصل وجہ سمجھ میں آئی تو ایسے مؤثر علاج اور ویکسینز سامنے آئیں کہ بعض بیماریاں دنیا سے ختم ہو گئیں اور بعض صرف چند محدود علاقوں تک رہ گئیں۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ جدید طب کسی بیماری کا حتمی علاج نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی بیماری کی اصل وجہ دریافت ہو جائے تو بہت سے امراض کا مستقل اور مؤثر علاج ممکن ہو جاتا ہے، بلکہ بعض اوقات بیماری دنیا سے ہی ختم ہو جاتی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر دائمی بیماریوں کا مستقل علاج ابھی تک کیوں موجود نہیں؟
اس موضوع پر میں ایک الگ تفصیلی پوسٹ لکھوں گا۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ بیماریاں بڑی حد تک جدید طرزِ زندگی (Lifestyle Disorders) کا نتیجہ ہیں، اور موجودہ دور میں ان کا سب سے مؤثر علاج بھی طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں سائنس ان بیماریوں کے بارے میں بھی مزید واضح اور مؤثر حل پیش کرے گی۔ لیکن فی الحال، ان سے بچاؤ اور ان پر قابو پانے کا سب سے مضبوط ہتھیار صحت مند طرزِ زندگی ہی ہے۔
ڈاکٹر محمد قاسم عمر
نیفرولوجسٹ

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی قرارداد برائے گردوں کی صحتعمل درآمد کے لیے ایک جامع فریم ورکگردوں کی بیماری دنیا بھر میں تیزی س...
29/06/2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی قرارداد برائے گردوں کی صحت
عمل درآمد کے لیے ایک جامع فریم ورک
گردوں کی بیماری دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتا ہوا صحتِ عامہ کا مسئلہ ہے۔ اس چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکومتیں درج ذیل پانچ بنیادی اقدامات اختیار کر سکتی ہیں:
1. قیام (Establish)
گردوں کی صحت کے لیے ایک قومی فوکل پرسن (Focal Point) مقرر کریں اور ایک قومی اسٹیئرنگ گروپ تشکیل دیں، جو ملک میں گردوں کی بیماریوں کی روک تھام، علاج اور پالیسی سازی کی رہنمائی کرے۔
2. جائزہ (Assess)
ملک میں گردوں کی بیماریوں کے بوجھ، دستیاب طبی سہولیات، نظام میں موجود خامیوں اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں پائی جانے والی عدم مساوات کا جامع جائزہ لیا جائے۔
3. منصوبہ بندی (Plan)
ایک ایسا قومی منصوبہ تیار کیا جائے جو واضح بجٹ، مقررہ مدت اور قابلِ عمل اہداف پر مشتمل ہو، اور جسے غیر متعدی امراض (NCDs) اور یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کی قومی حکمتِ عملی کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
4. عمل درآمد (Implement)
بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ گردوں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، مؤثر ریفرل، مناسب علاج اور معیاری نگہداشت ہر شہری کی دسترس میں ہو۔
5. نگرانی اور جانچ (Measure)
ترقی کی مسلسل نگرانی کی جائے، علاج کے معیار کو بہتر بنایا جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ گردوں کی صحت کی خدمات طویل مدت تک پائیدار اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ رسائی رہیں۔
پیغام:
گردوں کی بیماریوں کی روک تھام اور مؤثر علاج صرف طبی ماہرین کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومتوں، پالیسی سازوں اور صحت کے تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ان پانچ اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو لاکھوں افراد کو گردوں کی بیماری، ڈائیلاسز اور قبل از وقت اموات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، اور ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ لوگ شادیوں، تقریبا...
26/06/2026

پاکستان میں اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ لوگ شادیوں، تقریبات، برانڈڈ شاپنگ اور دیگر خوشیوں پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن جب علاج کی باری آتی ہے تو جیب سے پیسے نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو دونوں باتوں میں کسی نہ کسی حد تک حقیقت موجود ہے۔

میری رائے میں اس کی بنیادی وجہ انسانی نفسیات ہے۔ خوشی کے موقع پر انسان خرچ کرنا نسبتاً آسان سمجھتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات قرض لے کر بھی اخراجات کر لیتا ہے۔ لیکن بیماری ایک مجبوری ہے۔ جب انسان خود بیمار ہو، اس کا بچہ یا خاندان کا کوئی فرد تکلیف میں ہو، تو علاج پر ہونے والا ہر خرچ اس کی ذہنی پریشانی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ ایسے میں مالی بوجھ اسے بے چین اور مضطرب کر دیتا ہے۔

دوسری طرف ڈاکٹر کی بھی اپنی ذمہ داریاں، اخراجات اور معاشی مشکلات ہوتی ہیں۔ وہ اپنی محنت اور مہارت کا مناسب معاوضہ چاہتا ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں کبھی کبھی ڈاکٹر اور مریض کا تعلق غیر محسوس طور پر معالج اور مریض کے بجائے دکاندار اور گاہک کے تعلق میں بدلنے لگتا ہے، اور یہی صورتِ حال دونوں کے لیے تکلیف دہ بن جاتی ہے۔

برطانیہ کے NHS میں کام کرنے کے بعد مجھے اس نظام کی ایک خوبی بہت نمایاں محسوس ہوئی۔ یہاں ڈاکٹر کی تنخواہ عوام کے ٹیکس سے ادا ہوتی ہے، اور ہم خود بھی انہی ٹیکس ادا کرنے والوں میں شامل ہیں۔ جب ہم مریض کا علاج کرتے ہیں تو ہماری توجہ اس کی جیب پر نہیں ہوتی، کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ علاج کا بل براہِ راست مریض نے ادا نہیں کرنا۔

یقیناً اس نظام میں بھی خامیاں موجود ہیں، لیکن اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں معالج اور مریض کا رشتہ برقرار رہتا ہے، نہ کہ گاہک اور دکاندار کا۔

میرا ماننا ہے کہ صحت کا بہترین نظام وہ ہے جو ڈاکٹر کو اس کی محنت کا باعزت معاوضہ بھی دے، اور مریض کو علاج کے وقت مالی خوف سے بھی بچائے۔

ایک صحت مند معاشرے میں علاج ایک خدمت محسوس ہونا چاہیے، سودا نہیں۔
— ڈاکٹر محمد قاسم عمر

ہر شخص شکایت کرتا ہے، مگر تبدیلی کی شروعات کون کرے گا؟ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر کا رویہ اچھا نہیں تھا، دکاندار نے م...
26/06/2026

ہر شخص شکایت کرتا ہے، مگر تبدیلی کی شروعات کون کرے گا؟
ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر کا رویہ اچھا نہیں تھا، دکاندار نے مہنگا مال بیچ دیا، وکیل نے غیر ضروری فیس لے لی، یا کسی سرکاری دفتر میں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں کمزوریاں، کوتاہیاں، بدعنوانی اور بے ایمانی مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب کو ایک ساتھ بدل سکتے ہیں؟
شاید نہیں۔
لیکن ایک کام ضرور کر سکتے ہیں۔
آپ جس شعبے میں بھی کام کرتے ہیں—ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، کلرک، پولیس افسر، دکاندار یا کسی بھی پیشے سے وابستہ ہیں—یہ عہد کریں کہ جو شخص آپ کے پاس آئے، وہ آپ کے رویے، دیانت داری اور خدمت کے جذبے سے متاثر ہو کر واپس جائے۔
معاشرے کی اصلاح ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہزاروں لوگ اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں ایمانداری، احترام اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنا لیں گے تو آہستہ آہستہ پورا معاشرہ بدلنا شروع ہو جائے گا۔
تبدیلی دوسروں سے نہیں، خود سے شروع ہوتی ہے۔

— ڈاکٹر محمد قاسم عمر

میڈیکل پریکٹس  “” (Consent) ایک بنیادی اور نہایت اہم اصول ہے، جو نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔عام ...
25/06/2026

میڈیکل پریکٹس “” (Consent) ایک بنیادی اور نہایت اہم اصول ہے، جو نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
عام طور پر جب مریض ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں، وہ انتظار گاہ میں انتظار کرتے ہیں، پھر معائنہ ہوتا ہے، دوا دی جاتی ہے اور علاج شروع ہو جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں اکثر کوئی واضح معاہدہ نہیں ہوتا، لیکن یہ فرض کیا جاتا ہے کہ مریض علاج کے لیے رضامند ہے اور ڈاکٹر علاج کے لیے تیار ہے۔ اسے Implied Consent کہا جاتا ہے۔
دوسری طرف جب کوئی بڑا آپریشن یا انویسیو پروسیجر ہوتا ہے تو مریض سے باقاعدہ ایک تفصیلی فارم پر دستخط کروائے جاتے ہیں، جس میں بیماری کی نوعیت، علاج کے فوائد، خطرات اور ممکنہ پیچیدگیوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اسے Informed Consent کہا جاتا ہے۔
ان دونوں کے درمیان ایک نہایت اہم اور عملی قسم موجود ہے جسے Verbal Consent کہا جاتا ہے۔ روزمرہ کلینیکل معائنے میں جب ڈاکٹر مریض کو چھوتا ہے، جسمانی معائنہ کرتا ہے یا حساس حصوں کا معائنہ درکار ہوتا ہے، تو مریض کو زبانی طور پر بتایا جاتا ہے کہ کیا کیا جا رہا ہے۔ اس سے مریض کو اعتماد، سکون اور وضاحت ملتی ہے۔
حالیہ عرصے میں بعض ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں معائنے کے دوران غلط فہمی پیدا ہوئی اور تنازعات نے جنم لیا۔ اکثر ایسے کیسز میں مسئلہ نیت نہیں بلکہ communication gap ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کا مؤقف طبی ضرورت ہوتا ہے جبکہ مریض یا لواحقین اسے مختلف انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔
اگر Verbal Consent کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو ایسے تنازعات کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ واضح گفتگو، پہلے سے وضاحت اور مریض کی باقاعدہ آگاہی نہ صرف اعتماد بڑھاتی ہے بلکہ پیشہ ورانہ حفاظت بھی فراہم کرتی ہے۔
یہ پیغام صرف عوام کے لیے نہیں بلکہ طبی عملے کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ مؤثر communication اور consent کو کلینیکل پریکٹس کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
میرے پاکستان اور UK میں تجربے نے مجھے یہ احساس دیا ہے کہ کچھ پہلو ایسے ہیں جنہیں مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، خاص طور پر مریض کے ساتھ رابطے اور شفافیت کے حوالے سے۔
میں چاہوں گا کہ ڈاکٹرز، مریض اور عوام اپنے تجربات شیئر کریں تاکہ ہم اجتماعی طور پر اپنی میڈیکل پریکٹس کو مزید بہتر بنا سکیں۔

ڈاکٹر محمد قاسم عمر

22/06/2026

"نو سائیڈ ایفیکٹ" — ایک خطرناک مغالطہ

بہت دفعہ یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ "انگریزی (ایلوپیتھک) دوائیں بہت گرم ہوتی ہیں"، "بہت ہیوی ہوتی ہیں"، "بہت تیز ہوتی ہیں" یا "ان کے سائیڈ ایفیکٹس بہت زیادہ ہوتے ہیں"۔

آج ایک بات کا اعتراف بھی سمجھ لیجیے اور انکشاف بھی:
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جتنی ادویات سے میرا واسطہ پڑا ہے، ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے بالکل کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں۔
"نو سائیڈ ایفیکٹ" کا جملہ اشتہارات میں تو بہت مل جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف ایلوپیتھک ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں جبکہ جڑی بوٹیوں یا قدرتی ادویات کے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دوا، ہر کیمیکل اور ہر مادے کی ایک محفوظ مقدار (Safe Dose) ہوتی ہے۔ جب اس حد سے تجاوز کیا جائے تو نقصان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

حتیٰ کہ پانی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ بعض بیماریوں میں اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ پانی پی لے تو خون میں نمکیات، خصوصاً سوڈیم، خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں اور جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر:
• ڈائیکلوفیناک (Diclofenac) معدے میں السر پیدا کر سکتی ہے اور بعض حالات میں گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
• ایسپرین (Aspirin) معدے میں السر اور خون بہنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
• سیپٹران (Co-trimoxazole) بعض افراد میں انتہائی شدید جلدی الرجک ردِعمل پیدا کر سکتی ہے۔ میں نے ایسے مریض دیکھے ہیں جن میں یہ ردِعمل اتنا شدید تھا کہ بظاہر پورا جسم جل جانے کا منظر پیش کرتا تھا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دوائیوں کے سائیڈ ایفیکٹس ہیں تو پھر یہ مارکیٹ میں کیوں موجود ہیں؟

اس کا جواب سادہ ہے:
کیونکہ ان سے حاصل ہونے والے فوائد ان کے ممکنہ نقصانات سے زیادہ ہوتے ہیں۔

سائیڈ ایفیکٹس بھی مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔

کچھ سائیڈ ایفیکٹس Dose-related ہوتے ہیں، یعنی جتنی زیادہ مقدار استعمال کی جائے گی اتنا ہی خطرہ بڑھے گا۔

جبکہ کچھ سائیڈ ایفیکٹس الرجک ردِعمل کی صورت میں ہوتے ہیں جن کا دوائی کی مقدار سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک ہی خوراک شدید الرجی پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

بطور معالج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر دوا تجویز کرنے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات دونوں سے واقف ہوں اور دوا صرف اسی وقت دیں جب اس کا متوقع فائدہ اس کے ممکنہ نقصان سے زیادہ ہو۔

علاج کا پہلا اصول آج بھی وہی ہے:
"First, Do No Harm"
"سب سے پہلے، نقصان نہ پہنچاؤ

اگر آپ یہ ذمہ داری خود اپنے سر لینا چاہتے ہیں تو سیلف میڈیکیشن کیجیے، لیکن اگر دوائیوں کا محفوظ استعمال چاہتے ہیں تو ہمیشہ مستند طبی مشورے سے دوائیں استعمال کریں۔

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سی ایسی ادویات جن کے سائیڈ ایفیکٹس سنگین ہو سکتے ہیں، آسانی سے میڈیکل سٹورز سے مل جاتی ہیں۔ حالانکہ بیشتر ادویات Prescription Medicines ہیں اور انہیں صرف معالج کے مشورے سے استعمال ہونا چاہیے۔

بطور مریض آپ کا حق ہے کہ:
✓ ڈاکٹر سے پوچھیں کہ دوا کس لیے دی جا رہی ہے۔
✓ اس کے عام سائیڈ ایفیکٹس کیا ہیں۔
✓ کن علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔
✓ اگر کسی دوا سے الرجی ہوئی ہو تو اس کا ریکارڈ محفوظ رکھیں اور ہر نئے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
ایک اور اہم بات:
دوائیں اپنے طور پر نہ شروع کریں اور نہ ہی اپنے طور پر بند کریں۔
بعض ادویات کو اچانک بند کرنے سے بھی نقصان ہو سکتا ہے، البتہ شدید الرجک ردِعمل کی صورت میں دوا فوراً بند کرنا اور فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

Dr. Muhammad Qasim Umer is a consultant Nephrologist.He deals in Diabetes, Hypertension, Kidney diseases, and kidney transplant medicine.

پاکستان کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟میں نے 2013 سے 2022 تک پاکستان کے مختلف ہسپتالوں ...
15/06/2026

پاکستان کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟
میں نے 2013 سے 2022 تک پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں بطور ڈاکٹر کام کیا، اور 2022 سے اب تک یوکے کے ہسپتالوں میں کام کر رہا ہوں۔ اس دوران نہ صرف بطور ڈاکٹر بلکہ بطور مریض اور مریض کے تیماردار بھی دونوں نظاموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
میرے مشاہدے کے مطابق پاکستان میں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان پیدا ہونے والے اکثر تنازعات کی سب سے بڑی وجہ اعتماد (Trust) کا فقدان ہے۔
خوش قسمتی سے میری پیشہ ورانہ زندگی میں کبھی کوئی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جہاں کسی مریض یا لواحقین سے میری براہِ راست لڑائی ہوئی ہو۔ البتہ کئی بار غصے اور ناراضی کا سامنا ضرور ہوا۔ ایسے مواقع پر میں عموماً لواحقین کو الگ بٹھا کر ان کی پوری بات سنتا تھا، ان کے خدشات سمجھنے کی کوشش کرتا تھا اور واضح کرتا تھا کہ کون سی چیزیں ہمارے اختیار میں ہیں اور کون سی نہیں۔ اکثر اوقات صرف سن لینے سے ہی ان کا غصہ کافی حد تک ختم ہو جاتا تھا۔
لیکن مسئلہ صرف افراد کا نہیں، سسٹم کا بھی ہے۔
پاکستان میں بہت سے لوگوں کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ نظام منصفانہ طریقے سے کام کرے گا۔ اگر کسی مریض کو بتایا جائے کہ آپریشن یا کسی پروسیجر کے لیے انتظار کرنا پڑے گا، تو وہ اکثر یہ سوچتا ہے کہ شاید سفارش یا تعلقات کے ذریعے یہ انتظار ختم کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات ایسا واقعی ہو جاتا ہے۔
جب لوگ بار بار دیکھتے ہیں کہ سفارش، اثر و رسوخ یا تعلقات کے ذریعے اصول بدل جاتے ہیں، تو ان کا اعتماد صرف سسٹم پر ہی نہیں بلکہ اس سسٹم میں کام کرنے والے ڈاکٹروں پر بھی کم ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اگر پرائیویٹ ہسپتال میں کسی مریض کو وینٹی لیٹر کی ضرورت بتائی جائے تو بعض لوگ سوچتے ہیں کہ شاید پیسے کمانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔ اور اگر سرکاری ہسپتال میں کہا جائے کہ وینٹی لیٹر دستیاب نہیں، تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید جان بوجھ کر انکار کیا جا رہا ہے یا کسی سفارش کا انتظار ہے۔
یعنی دونوں صورتوں میں بنیادی مسئلہ ایک ہی ہے: اعتماد کا فقدان۔
کبھی کبھی بطور ڈاکٹر یہ صورتحال بہت تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ ہم کسی مریض کو نظام کے قواعد کے مطابق بتاتے ہیں کہ ابھی اس کی باری نہیں آئی، لیکن اگلے ہی دن کسی سفارش یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر وہی کام ہو جاتا ہے۔ پھر مریض یہ سمجھتا ہے کہ شاید پہلے ڈاکٹر ہی غلط بیانی کر رہا تھا، حالانکہ حقیقت میں نظام کے اصول توڑے گئے ہوتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف کسی دوسرے زیادہ مستحق مریض کا حق متاثر ہوتا ہے بلکہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان موجود اعتماد بھی مزید کمزور ہو جاتا ہے۔
میں یہ بات اپنی کمیونٹی کا دفاع کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا۔ یقیناً بعض مواقع پر ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی غلطیاں بھی ہوتی ہیں، اور جہاں غلطی ہو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن اپنے مشاہدے کی بنیاد پر میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے تنازعات کی جڑ افراد سے زیادہ نظام کی کمزوریاں اور باہمی بداعتمادی ہیں۔
میری رائے میں پاکستان کے صحت کے نظام میں بے شمار محنتی، ایماندار اور قابل ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈکس موجود ہیں۔ اسی طرح مریض اور ان کے لواحقین بھی اکثر شدید پریشانی، خوف اور بے بسی کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بہت سی تلخیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔
نظام میں بہتری لانا ایک طویل اور مشکل عمل ہے، لیکن جب تک یہ بہتری نہیں آتی، تب تک ہمیں باہمی احترام، برداشت اور ایک دوسرے کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کو فروغ دینا چاہیے۔
ڈاکٹر، نرسیں، پیرامیڈکس، مریض اور ان کے لواحقین ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ ہم سب کا مقصد ایک ہی ہے: مریض کی بہترین دیکھ بھال۔
میں نے تحریر کے اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بات یہیں سمیٹ دی ہے۔
اگر آپ کے بطور ڈاکٹر، نرس، پیرامیڈک، مریض یا مریض کے تیماردار ہسپتالوں سے متعلق ایسے تجربات رہے ہیں تو انہیں کمنٹ باکس میں ضرور شیئر کریں۔ ساتھ ہی اپنی تجاویز بھی دیں کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد اور احترام کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔
شاید مسئلے کے حل کا آغاز ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے سے ہی ہو۔

السلام علیکم!میں ڈاکٹر قاسم، نیفروالوجسٹ (گردوں کا ڈاکٹر) ہوں۔کچھ عرصہ غیر فعال رہنے کے بعد یہ صفحہ دوبارہ فعال کیا جا ر...
14/06/2026

السلام علیکم!
میں ڈاکٹر قاسم، نیفروالوجسٹ (گردوں کا ڈاکٹر) ہوں۔
کچھ عرصہ غیر فعال رہنے کے بعد یہ صفحہ دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد کوئی آن لائن کلینک چلانا یا انفرادی مریضوں کا علاج کرنا نہیں، بلکہ صحت، علاج اور معاشرتی آگاہی کے حوالے سے مفید اور متوازن معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس صفحے کے مقاصد
1۔ مستند طبی معلومات کی فراہمی
سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق بہت سی مفید معلومات کے ساتھ ساتھ غلط معلومات بھی پھیلتی ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ سائنسی شواہد پر مبنی معلومات آسان زبان میں آپ تک پہنچائی جائیں۔
2۔ عام طبی سوالات کی رہنمائی
بہت سے لوگ مختلف بیماریوں اور علاج سے متعلق عمومی سوالات پوچھتے ہیں۔ جہاں ممکن ہوا، میں عمومی رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔
نوٹ: یہ صفحہ انفرادی تشخیص، نسخہ نویسی یا ہنگامی طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے۔
3۔ مریض اور طبی عملے کے درمیان بہتر فہم پیدا کرنا
اکثر مریضوں، ڈاکٹروں، فارماسسٹس اور دیگر شعبوں کے افراد کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھتے ہوئے متوازن گفتگو کو فروغ دیا جائے۔
4۔ علاج سے متعلق شعور میں اضافہ
بہتر فیصلے وہی ہوتے ہیں جو درست معلومات کی بنیاد پر کیے جائیں۔ اس صفحے کے ذریعے علاج، بیماریوں اور صحت کے نظام کے بارے میں شعور بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
5۔ سائنسی علاج سے متعلق تحفظات پر گفتگو
بہت سے لوگوں کے ذہن میں جدید سائنسی علاج اور ادویات کے بارے میں سوالات یا خدشات ہوتے ہیں۔ ان موضوعات پر احترام، دلیل اور شواہد کی بنیاد پر گفتگو کی جائے گی۔
6۔ مناسب طبی رہنمائی اور ریفرل
اگر کسی کو کسی خاص شعبے کے مستند ڈاکٹر یا ماہر کی تلاش ہو، تو جہاں مناسب ہوا وہاں رہنمائی فراہم کی جا سکے گی، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں میرا پیشہ ورانہ تجربہ رہا ہے۔
ہمارا بنیادی اصول
معلومات، شعور، احترام اور مکالمہ
میری خواہش ہے کہ مریض اپنے علاج میں ایک باخبر اور فعال شریک بنیں، اور صحت کے شعبے سے وابستہ تمام افراد ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
آپ کی آراء، سوالات اور مثبت تنقید کا خیرمقدم ہے۔
ڈاکٹر قاسم

13/06/2026

Address

Online
Qila Sheikhupura

Telephone

+923201239907

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Qasim Umer Nephrologist ڈاکٹر قاسم عمر ماہر امراض گردہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr. Qasim Umer Nephrologist ڈاکٹر قاسم عمر ماہر امراض گردہ:

Shortcuts

Share