25/04/2026
بچوں میں دورے یا جھٹکے پڑنا ایک بہت عام مسئلہ ہے، اور اسی وجہ سے والدین اکثر شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں آج خاص طور پر والدین کے ساتھ ایک نہایت اہم نکتے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ گزارش ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سب کو فائدہ ہو۔ جزاک اللہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر خود آنکھوں سے بچے کے دورے نہ دیکھ سکے تو مرگی یا جھٹکوں کی درست تشخیص کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کوئی ایک ایسا ٹیسٹ موجود نہیں جو سو فیصد یہ ثابت کر دے کہ بچے کو واقعی مرگی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ اکثر اوقات والدین جس چیز کو دورہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ حقیقت میں دورہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور مسئلہ ہو سکتا ہے۔
ای ای جی ایک اہم ٹیسٹ ہے جو ہم عموماً کرواتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ اگر بچے کو واقعی مرگی ہو تب بھی ای ای جی نارمل آ سکتا ہے۔ اسی لیے صرف ٹیسٹ پر انحصار کرنا کافی نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ اہم چیز دورے کی مکمل تفصیل جاننا اور اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔
آج کے دور میں تقریباً ہر شخص کے پاس کیمرے والا موبائل فون موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی بچے کو جھٹکے لگیں تو ایک فرد بچے کو محفوظ طریقے سے سنبھالے اور دوسرا شخص کوشش کرے کہ اس دورے کی ویڈیو موبائل پر ریکارڈ کر لے۔ یہ ویڈیو تشخیص کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوتی ہے۔
دوروں کی درست قسم جاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ مختلف قسم کے دوروں کے لیے مختلف دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر بچے کو مرگی نہ ہو اور صرف اندازے کی بنیاد پر مرگی کی دوا شروع کر دی جائے تو اس کے دیرپا اثرات ہو سکتے ہیں۔ ان میں روزانہ دوا دینا، دوا کا مسلسل بندوبست، دواؤں کے ممکنہ مضر اثرات، معاشرتی دباؤ، والدین کی مسلسل ذہنی پریشانی، اور بچے کی روزمرہ زندگی اور روٹین کا متاثر ہونا شامل ہے۔
اسی لیے ہم ہمیشہ زور دیتے ہیں کہ مرگی یا جھٹکوں کی درست تشخیص بہت ضروری ہے، اور اس میں والدین کی بنائی گئی ویڈیو ہماری بہت بڑی مدد کر سکتی ہے۔ بروقت اور درست تشخیص سے نہ صرف غیر ضروری دواؤں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ بچے کی زندگی کو بھی نارمل رکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور