28/08/2026
الرجی ویکسین
الرجی ویکسین دراصل "Subcutaneous Immunotherapy" جسے اردو میں "تحت جِلدی مدافعتی علاج" کہاجاتاہے۔ یہ کوئی معمولی ویکسین نہیں بلکہ الرجی اور دمہ کے علاج کا ایک انقلابی اور مستند طریقہ ہے، جسے عام زبان میں "الرجی شاٹس" یا "الرجی کی ویکسین" بھی کہا جاتا ہے۔
اسلام آباد کے حوالے سے اس ویکسین کی خاص اہمیت ہے کیونکہ پاکستان میں الرجی اور دمہ کے علاج کے لیے یہ ویکسین تیار کرنے اور اس پر تحقیق کا ایک اہم مرکز اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) ہے۔ ڈاکٹر شاہد عباس، جو پاکستان الرجی دمہ اینڈ امیونالوجی سوسائٹی کے سربراہ ہیں، نے الاسلام آباد میں ہی اس ویکسین کی تیاری اور اس کی نئی شکلوں (جیسے کہ منہ کے نیچے رکھی جانے والی گولی) پر کئی سال کام کیا۔ انہوں نے ۱۹۹۱ سے ۲۰۰۳ تک NIH کے الرجی امیونولوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور وہاں الرجی کی ویکسین تیار کرنے والے یونٹ کی نگرانی بھی کی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں پاکستان، متحدہ عرب امارات، افغانستان اور ایران سے آنے والے پانچ سے چھ سو مریض یہاں علاج کے لیے آتے تھے۔
اب آئیے سمجھتے ہیں کہ الرجی ویکسین ہے کیا۔ یہ دراصل ایک ایسا علاج ہے جو ۱۹۱۱ میں لیونارڈ نون اور جان فری مین نے ایجاد کیا تھا۔ اس کا مقصد جسم کو کسی خاص الرجی (مثلاً پولن، دھول، یا کیڑے کے زہر) کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی ویکسین کسی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ویکسین جراثیم کے خلاف نہیں بلکہ الرجی پیدا کرنے والے مادے (الرجن) کے خلاف بنائی جاتی ہے۔
اس علاج میں الرجی کے مریض کی جلد کے نیچے (subcutaneous) بہت کم مقدار میں اس کی الرجی کا باعث بننے والے مادے کو انجکشن کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔ یہ مقدار آہستہ آہستہ بڑھائی جاتی ہے تاکہ مریض کا مدافعتی نظام اس مادے کے عادی ہو جائے اور اس پر زیادہ ردعمل دینا بند کر دے۔ اس عمل کو "ڈی سینسیٹائزیشن" یا حساسیت کم کرنا کہا جاتا ہے۔
یہ علاج دو مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے کو "بلڈ اپ فیز" کہتے ہیں، جس میں مریض کو ہفتے میں ایک یا دو بار انجکشن لگائے جاتے ہیں اور الرجن کی مقدار بتدریج بڑھائی جاتی ہے۔ یہ مرحلہ تقریباً سات ماہ سے لے کر دس ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ دوسرا مرحلہ "مینٹیننس فیز" ہے، جس میں مریض کو ہر تین یا چار ہفتے بعد ایک مستقل مقدار میں انجکشن دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر تین سے پانچ سال تک جاری رہتا ہے۔
الرجی ویکسین کا استعمال خاص طور پر ان مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے جن کی الرجی یا دمہ کی علامات معمول کی دوائیوں سے قابو میں نہیں آتیں اور ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہو۔ یہ نہ صرف علامات کو کم کرتا ہے بلکہ الرجی کو دمہ میں تبدیل ہونے سے بھی روک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس علاج کے بعد مریض کو اینٹی ہسٹامائن اور دیگر دوائیوں کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔
تاہم، کسی بھی انجکشن کی طرح اس کے بھی کچھ مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ سب سے عام اثر انجکشن کی جگہ پر خارش یا سوجن ہے، جو ایک دن یا دو دن میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ ش*ذ و نادر صورتوں میں، سنگین الرجک ردعمل (anaphylaxis) بھی ہو سکتا ہے، جس میں سانس لینے میں دشواری، چھتے، یا بلڈ پریشر گر سکتا ہے۔ اسی خطرے کی وجہ سے یہ انجکشن ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہسپتال میں ہی لگایا جاتا ہے اور مریض کو کم از کم تیس منٹ سے ایک گھنٹے تک مشاہدے میں رکھا جاتا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کے سائنسدانوں نے اس روایتی انجکشن والی ویکسین کو مزید بہتر بنایا ہے۔ ڈاکٹر شاہد عباس نے ۱۹۹۵ میں اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ۷۵ فیصد مریض انجکشن کے خوف، دور دراز علاقوں میں ہنگامی سہولت نہ ہونے، اور طویل علاج کے باعث تین ماہ کے اندر ہی یہ علاج چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے ۲۰۰۲ میں "سب لنگول امیونو تھراپی" (SLIT) تیار کی، جس میں الرجی کی ویکسین قطرے یا گولی کی شکل میں مریض کی زبان کے نیچے رکھی جاتی ہے۔ یہ طریقہ انجکشن سے زیادہ آسان، محفوظ، اور بغیر کسی خاص درجہ حرارت کی شرط کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ SLIT گولی بعد میں ۲۰۱۲ میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) سے بھی منظور شدہ ہوئی۔
خلاصہ یہ کہ subcutaneous immunotherapy الرجی اور دمہ کے لیے ایک محفوظ، مؤثر، اور طویل المدتی علاج ہے جو مرض کی جڑ کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ علاج، جسے اسلام آباد میں تیار اور فروغ دیا گیا، دنیا بھر میں لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ کوئی معمولی ویکسین نہیں ہے اور اسے صرف کسی ماہر الرجسٹ یا معالج کے مشورے اور نگرانی میں ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپشلسٹ تیمرگرہ