Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic

Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic Chest/TB clinic at Timergara is a page created for the awareness of community about chest diseases

الرجی ویکسین الرجی ویکسین دراصل "Subcutaneous Immunotherapy" جسے اردو میں "تحت جِلدی مدافعتی علاج" کہاجاتاہے۔ یہ کوئی مع...
28/08/2026

الرجی ویکسین

الرجی ویکسین دراصل "Subcutaneous Immunotherapy" جسے اردو میں "تحت جِلدی مدافعتی علاج" کہاجاتاہے۔ یہ کوئی معمولی ویکسین نہیں بلکہ الرجی اور دمہ کے علاج کا ایک انقلابی اور مستند طریقہ ہے، جسے عام زبان میں "الرجی شاٹس" یا "الرجی کی ویکسین" بھی کہا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے حوالے سے اس ویکسین کی خاص اہمیت ہے کیونکہ پاکستان میں الرجی اور دمہ کے علاج کے لیے یہ ویکسین تیار کرنے اور اس پر تحقیق کا ایک اہم مرکز اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) ہے۔ ڈاکٹر شاہد عباس، جو پاکستان الرجی دمہ اینڈ امیونالوجی سوسائٹی کے سربراہ ہیں، نے الاسلام آباد میں ہی اس ویکسین کی تیاری اور اس کی نئی شکلوں (جیسے کہ منہ کے نیچے رکھی جانے والی گولی) پر کئی سال کام کیا۔ انہوں نے ۱۹۹۱ سے ۲۰۰۳ تک NIH کے الرجی امیونولوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور وہاں الرجی کی ویکسین تیار کرنے والے یونٹ کی نگرانی بھی کی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں پاکستان، متحدہ عرب امارات، افغانستان اور ایران سے آنے والے پانچ سے چھ سو مریض یہاں علاج کے لیے آتے تھے۔

اب آئیے سمجھتے ہیں کہ الرجی ویکسین ہے کیا۔ یہ دراصل ایک ایسا علاج ہے جو ۱۹۱۱ میں لیونارڈ نون اور جان فری مین نے ایجاد کیا تھا۔ اس کا مقصد جسم کو کسی خاص الرجی (مثلاً پولن، دھول، یا کیڑے کے زہر) کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی ویکسین کسی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ ویکسین جراثیم کے خلاف نہیں بلکہ الرجی پیدا کرنے والے مادے (الرجن) کے خلاف بنائی جاتی ہے۔

اس علاج میں الرجی کے مریض کی جلد کے نیچے (subcutaneous) بہت کم مقدار میں اس کی الرجی کا باعث بننے والے مادے کو انجکشن کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔ یہ مقدار آہستہ آہستہ بڑھائی جاتی ہے تاکہ مریض کا مدافعتی نظام اس مادے کے عادی ہو جائے اور اس پر زیادہ ردعمل دینا بند کر دے۔ اس عمل کو "ڈی سینسیٹائزیشن" یا حساسیت کم کرنا کہا جاتا ہے۔

یہ علاج دو مراحل میں مکمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے کو "بلڈ اپ فیز" کہتے ہیں، جس میں مریض کو ہفتے میں ایک یا دو بار انجکشن لگائے جاتے ہیں اور الرجن کی مقدار بتدریج بڑھائی جاتی ہے۔ یہ مرحلہ تقریباً سات ماہ سے لے کر دس ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ دوسرا مرحلہ "مینٹیننس فیز" ہے، جس میں مریض کو ہر تین یا چار ہفتے بعد ایک مستقل مقدار میں انجکشن دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر تین سے پانچ سال تک جاری رہتا ہے۔

الرجی ویکسین کا استعمال خاص طور پر ان مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے جن کی الرجی یا دمہ کی علامات معمول کی دوائیوں سے قابو میں نہیں آتیں اور ان کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہو۔ یہ نہ صرف علامات کو کم کرتا ہے بلکہ الرجی کو دمہ میں تبدیل ہونے سے بھی روک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس علاج کے بعد مریض کو اینٹی ہسٹامائن اور دیگر دوائیوں کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

تاہم، کسی بھی انجکشن کی طرح اس کے بھی کچھ مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ سب سے عام اثر انجکشن کی جگہ پر خارش یا سوجن ہے، جو ایک دن یا دو دن میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ ش*ذ و نادر صورتوں میں، سنگین الرجک ردعمل (anaphylaxis) بھی ہو سکتا ہے، جس میں سانس لینے میں دشواری، چھتے، یا بلڈ پریشر گر سکتا ہے۔ اسی خطرے کی وجہ سے یہ انجکشن ہمیشہ ڈاکٹر کی نگرانی میں ہسپتال میں ہی لگایا جاتا ہے اور مریض کو کم از کم تیس منٹ سے ایک گھنٹے تک مشاہدے میں رکھا جاتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کے سائنسدانوں نے اس روایتی انجکشن والی ویکسین کو مزید بہتر بنایا ہے۔ ڈاکٹر شاہد عباس نے ۱۹۹۵ میں اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ۷۵ فیصد مریض انجکشن کے خوف، دور دراز علاقوں میں ہنگامی سہولت نہ ہونے، اور طویل علاج کے باعث تین ماہ کے اندر ہی یہ علاج چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے ۲۰۰۲ میں "سب لنگول امیونو تھراپی" (SLIT) تیار کی، جس میں الرجی کی ویکسین قطرے یا گولی کی شکل میں مریض کی زبان کے نیچے رکھی جاتی ہے۔ یہ طریقہ انجکشن سے زیادہ آسان، محفوظ، اور بغیر کسی خاص درجہ حرارت کی شرط کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ SLIT گولی بعد میں ۲۰۱۲ میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) سے بھی منظور شدہ ہوئی۔

خلاصہ یہ کہ subcutaneous immunotherapy الرجی اور دمہ کے لیے ایک محفوظ، مؤثر، اور طویل المدتی علاج ہے جو مرض کی جڑ کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ علاج، جسے اسلام آباد میں تیار اور فروغ دیا گیا، دنیا بھر میں لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ کوئی معمولی ویکسین نہیں ہے اور اسے صرف کسی ماہر الرجسٹ یا معالج کے مشورے اور نگرانی میں ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپشلسٹ تیمرگرہ

غذائی فائبر، جسے عام طور پر ریشہ یا سیلولوز کہا جاتا ہے، دراصل پودوں پر مبنی خوراک کا ایک ناقابلِ ہضم حصہ ہے جو انسانی ن...
16/08/2026

غذائی فائبر، جسے عام طور پر ریشہ یا سیلولوز کہا جاتا ہے، دراصل پودوں پر مبنی خوراک کا ایک ناقابلِ ہضم حصہ ہے جو انسانی نظامِ انہضام میں مکمل طور پر تحلیل تو نہیں ہوتا، مگر اس کا وجود صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ وٹامنز اور منرلز۔ یہ بنیادی طور پر دو اقسام پر مشتمل ہے: سالوبل فائبر، جو پانی میں حل ہو کر جیل کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اور ناقابلِ حل فائبر، جو نظامِ ہاضمہ میں پانی جذب کرکے فضلے کو نرم اور بھاری بناتا ہے، اس طرح آنتوں کی حرکت کو آسان بنا کر قبض سے نجات دلاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف نظامِ ہضم کو درست رکھتا ہے بلکہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موٹاپے جیسے سنگین امراض کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم کرتا ہے، کیونکہ یہ کھانے کو آہستہ ہضم کرنے میں مدد دیتا جس سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور بے وقت کی بھوک کم ہوتی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق ایک عام بالغ فرد کو روزانہ کم از کم 25 سے 38 گرام فائبر حاصل کرنا چاہیے، مگر افسوس کہ جدید طرزِ خوراک میں زیادہ تر لوگ اس مقدار کا محض آدھا ہی کھا پاتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر ہاضمے کی شکایات اور وزن میں اضافے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ فائبر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قدرتی غذائی ذرائع بے شمار ہیں، جن میں دال، چنے، پھٹی ہوئی مٹر اور کالی پھلیاں سرفہرست ہیں، جبکہ سیب، ناشپاتی اور رس بھرے پھل جیسے اسٹرابیری اور راسپبیری اپنے چھلکوں اور بیجوں کی بدولت بھرپور فائبر فراہم کرتے ہیں، نیز سبزیوں میں بروکلی، ہری مٹر اور چھوٹی بند گوبھی جبکہ اناج میں سارے گیہوں کی روٹی، جو اور کوئنوآ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ تاہم، ایک اہم اور اکثر نظرانداز کی جانے والی بات یہ ہے کہ اگر آپ ایک دم سے بہت زیادہ فائبر کا استعمال شروع کر دیں تو اس سے پیٹ میں گیس، اپھارہ اور تکلیف ہو سکتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے آہستہ آہستہ خوراک میں شامل کیا جائے تاکہ آنتیں اس عادت کو قبول کر سکیں۔ اس کے علاوہ، فائبر پانی کو جذب کرنے کی خاصیت رکھتا ہے، لہٰذا اس کی مقدار بڑھانے کے ساتھ ساتھ روزانہ پانی کا استعمال بھی کافی بڑھا دینا انتہائی ضروری ہے، ورنہ یہ فائدہ پہنچانے کی بجائے قبض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ غذائی فائبر صرف ایک معمولی غذائی جزو نہیں بلکہ مجموعی صحت کی مضبوط بنیاد ہے، اور اگر روزمرہ کی معمولی کھانوں میں تھوڑی سی مقداران غذاؤں کو شامل کیا جائے تو نہ صرف جسمانی توانائی اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ طویل مدتی بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہے، جو ایک فعال اور پر سکون زندگی کی ضمانت ہے۔

غذائی فائبر، جسے عام طور پر ریشہ یا سیلولوز کہا جاتا ہے، دراصل پودوں پر مبنی خوراک کا ایک ناقابلِ ہضم حصہ ہے جو انسانی نظامِ انہضام میں مکمل طور پر تحلیل تو نہیں ہوتا، مگر اس کا وجود صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ وٹامنز اور منرلز۔ یہ بنیادی طور پر دو اقسام پر مشتمل ہے: گھلنشیل فائبر، جو پانی میں حل ہو کر جیل کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اور ناقابلِ حل فائبر، جو نظامِ ہاضمہ میں پانی جذب کرکے فضلے کو نرم اور بھاری بناتا ہے، اس طرح آنتوں کی حرکت کو آسان بنا کر قبض سے نجات دلاتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف نظامِ ہضم کو درست رکھتا ہے بلکہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موٹاپے جیسے سنگین امراض کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم کرتا ہے، کیونکہ یہ کھانے کو آہستہ ہضم کرنے میں مدد دیتا جس سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے اور بے وقت کی بھوک کم ہوتی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق ایک عام بالغ فرد کو روزانہ کم از کم 25 سے 38 گرام فائبر حاصل کرنا چاہیے، مگر افسوس کہ جدید طرزِ خوراک میں زیادہ تر لوگ اس مقدار کا محض آدھا ہی کھا پاتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر ہاضمے کی شکایات اور وزن میں اضافے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ فائبر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قدرتی غذائی ذرائع بے شمار ہیں، جن میں دال، چنے، پھٹی ہوئی مٹر اور کالی پھلیاں سرفہرست ہیں، جبکہ سیب، ناشپاتی اور رس بھرے پھل جیسے اسٹرابیری اور راسپبیری اپنے چھلکوں اور بیجوں کی بدولت بھرپور فائبر فراہم کرتے ہیں، نیز سبزیوں میں بروکلی، ہری مٹر اور چھوٹی بند گوبھی جبکہ اناج میں سارے گیہوں کی روٹی، جو اور کوئنوآ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ تاہم، ایک اہم اور اکثر نظرانداز کی جانے والی بات یہ ہے کہ اگر آپ ایک دم سے بہت زیادہ فائبر کا استعمال شروع کر دیں تو اس سے پیٹ میں گیس، اپھارہ اور تکلیف ہو سکتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے آہستہ آہستہ خوراک میں شامل کیا جائے تاکہ آنتیں اس عادت کو قبول کر سکیں۔ اس کے علاوہ، فائبر پانی کو جذب کرنے کی خاصیت رکھتا ہے، لہٰذا اس کی مقدار بڑھانے کے ساتھ ساتھ روزانہ پانی کا استعمال بھی کافی بڑھا دینا انتہائی ضروری ہے، ورنہ یہ فائدہ پہنچانے کی بجائے قبض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ غذائی فائبر صرف ایک معمولی غذائی جزو نہیں بلکہ مجموعی صحت کی مضبوط بنیاد ہے، اور اگر روزمرہ کی معمولی کھانوں میں تھوڑی سی محتاطی اور جان بوجھ کر ان غذاؤں کو شامل کیا جائے تو نہ صرف جسمانی توانائی اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ طویل مدتی بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہے، جو ایک فعال اور پر سکون زندگی کی ضمانت ہے۔

ڈاکٹر اشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ

میرے کلینک میں ایک دن سات آٹھ سال کی ایک بچی آئی، جو کافی عرصے سے کھانسی کے شدید دوروں میں مبتلا تھی۔ اس کا والد ہمارے ہ...
26/07/2026

میرے کلینک میں ایک دن سات آٹھ سال کی ایک بچی آئی، جو کافی عرصے سے کھانسی کے شدید دوروں میں مبتلا تھی۔ اس کا والد ہمارے ہی شعبے سے تعلق رکھتا تھا اور میرے جاننے والے تھے، چنانچہ وہ مہینے میں دو تین بار مجھے فون کرتے کہ ڈاکٹر صاحب، میری بیٹی کو کھانسی ہے، میں آپ سے معائنہ کروانا چاہتا ہوں۔ مگر ہر بار میں اُن کا انتظار کرتا رہ جاتا اور شام تک وہ مجھے کسی بچوں کے ڈاکٹر کا نسخہ بھیج دیتے۔ اسی کشمکش میں پورا ایک سال گزر گیا۔ اس دوران وہ لوکل اور سوات کے متعدد مستند ماہر اطفال سے معائنہ کر چکے تھے۔

آخر کار وہ کلینک تشریف لائے اور بچی کو ساتھ لائے۔ بچی واقعی شدید کھانسی میں مبتلا تھی۔ والد بتا رہے تھے کہ رات کو ہم بھی جاگتے ہیں اور بچی بھی، کیونکہ وہ ساری رات کھانستی رہتی ہے۔

میں نے سارا ریکارڈ چیک کیا۔ جو بھی علاج دیا گیا تھا اور جو انویسٹیگیشنز ہو چکی تھیں، وہ اپنی جگہ بالکل درست تھیں، لیکن بچی کو ایک دن بھی آرام نہ آیا تھا۔ اس کے پاس جتنے بھی ایکسرے تھے، سب نارمل تھے۔ کچھ دیر کے لیے تو میں بھی پریشان ہو گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ علاج سے فرق نہیں پڑ رہا؟

پھر میں نے تفصیل سے ہسٹری لینا شروع کی تو پتہ چلا کہ اس کے والد نے اپنے گھر کی چھت پر تقریباً دو سو کبوتر پال رکھے تھے۔ میں نے فوری طور پر سی ٹی سکین کروایا، جس پر ایکیوٹ ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس (Hypersensitivity Pneumonitis) کی تشخیص ہوئی۔

میں نے اس کے والد کو صاف بتا دیا کہ نہ صرف تمام کبوتر ہٹانے پڑیں گے، بلکہ چھت پر موجود اُن کے پروں اور فضلہ کو بھی مکمل طور پر صاف کرنا ہوگاجس پر اس نے عمل کیا اور ساتھ ہی سٹیرائیڈز کا مناسب ڈوز شروع کیا۔ الحمدللہ، دو ہفتوں میں اس کی کھانسی بالکل ٹھیک ہو گئی۔

یہ کافی عرصہ پہلے کی بات تھی، جو آج ایک دوسرے مریض کو صحت یاب دیکھ کر مجھے یاد آ گئی۔

آج تقریباً ساٹھ سال کی ایک خاتون کلینک میں آئی، جواس سے پہلے مہینے میں ایک بار میرے پاس آتی تھیں۔ علاج کے ساتھ ساتھ میں ہر وزٹ پر یہ کہتا تھا کہ گھر سے کبوتر ہٹا دیں، مگر بدقسمتی سے اُن کے گھر والے مانتے نہ تھے۔ آج وہ چھ ماہ بعد معائنے کے لیے آئیں، اور نہ صرف پہلے کے مقابلے میں خوش و خرم تھیں، بلکہ اُن کا دمہ بھی مکمل طور پر کنٹرول میں تھا، کیونکہ آخری وزٹ کے بعد اُنہوں نے آخرکار گھر سے کبوتر ہٹا دیے تھے۔

پرندوں، ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس اور دمہ کے بگڑنے کے حوالے سے چند اہم باتیں ۔

پرندوں کے پروں، خشک اخراج اور جلد کے ذرات میں موجود پروٹینز انتہائی طاقتور الرجین ہیں۔ جب یہ ذرات بار بار سانس کی نالیوں میں جائیں تو نہ صرف دمہ کے مریضوں کی علامات شدت اختیار کر جاتی ہیں، بلکہ یہ ایک مخصوص قسم کی پھیپھڑوں کی سوزش یعنی ہائپرسینسیٹیویٹی نیومونائٹس کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اس بیماری کی خاص بات یہ ہے کہ عام کھانسی یا دمہ کی دوائیں بے اثر رہتی ہیں، اور ایکسرے بھی ابتدا میں نارمل ہو سکتے ہیں۔ اس کا واحد مستقل حل محرک (پرندے) سے مکمل علیحدگی ہے، ورنہ بار بار ایکپوزر پھیپھڑوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اکثر ہم معمول کی ہسٹری میں یہ سوال پوچھنا بھول جاتے ہیں، جبکہ یہی ایک سوال مشکل کیسز کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

ڈاشفاق الرحمن چسٹ اینڈ ٹی بی سپیشلسٹ تیمرگرہ

وزن کم کرنے کے سلسلے میں یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ روزانہ دس ہزار قدم چلنا بہتر ہے یا تیس منٹ تک کارڈیو ورزش کرنا۔ ...
25/07/2026

وزن کم کرنے کے سلسلے میں یہ سوال اکثر ذہن میں آتا ہے کہ روزانہ دس ہزار قدم چلنا بہتر ہے یا تیس منٹ تک کارڈیو ورزش کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر قطعی برتر نہیں ہے، کیونکہ دونوں کے اپنے منفرد فوائد ہیں اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بہترین حکمت عملی ان دونوں کو یکجا کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دس ہزار قدم کا مشہور ہدف دراصل کوئی سائنسی اصول نہیں بلکہ ایک پرانی مارکیٹنگ مہم کا نتیجہ ہے، تاہم اس کی صحت پر مثبت اثرات سے انکار ممکن نہیں۔

جب کیلوریز جلانے کا موازنہ کیا جائے تو روزانہ دس ہزار قدم چلنے سے تقریباً تین سو سے پانچ سو کیلوریز خرچ ہو سکتی ہیں، جس میں روزمرہ کی معمولی سرگرمیاں جیسے گھر میں چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، یا دفتر آنا جانا بھی شامل ہیں، جو مجموعی توانائی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتی ہیں۔ دوسری جانب تیس منٹ کی تیز کارڈیو ورزش سے قریباً ایک سو ستر سے تین سو کیلوریز جلتی ہیں، البتہ اگر یہ کارڈیو آہستہ رفتار سے کیا جائے تو یہ تعداد محض دو سو کے قریب رہ جاتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دس ہزار قدم مجموعی طور پر زیادہ کیلوریز خرچ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

چربی جلانے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی دس ہزار قدم کا ہدف اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ مختلف تحقیقات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس روزانہ معمول سے انسولین اور گلوکوز کی سطح میں بہتری آتی ہے، جو میٹابولک صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تاہم تیس منٹ کی مسلسل کارڈیو، خاص طور پر اگر اسے بیس سے تیس منٹ تک بغیر رکے جاری رکھا جائے، تو جسم چربی جلانے کے اس مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں توانائی کا ذریعہ کاربوہائیڈریٹس کی بجائے چربی بن جاتی ہے، اس لیے اسے چربی کم کرنے کی موثر ورزش بھی کہا جاتا ہے۔ دل کی صحت کے معاملے میں تحقیق بتاتی ہے کہ روزانہ صرف آٹھ سے ساڑھے آٹھ ہزار قدم چلنا بھی دل کی بیماریوں کے خطرے کو چالیس فیصد تک کم کر سکتا ہے، جبکہ دس ہزار قدم پورے دن میں حرکت کو فروغ دے کر بیٹھنے کے طویل اوقات کو مؤثر طریقے سے توڑتے ہیں، لیکن تیس منٹ کارڈیو ایک مرتکز اور منظم ورزش کا درجہ رکھتی ہے جو دل کی دھڑکن کو بہتر انداز میں کنٹرول کرتی ہے۔

اب اگر آپ اپنے مقصد کے مطابق فیصلہ کریں تو وزن کم کرنا بنیادی ہدف ہے تو دس ہزار قدم زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ تیز رفتاری سے چلے جائیں، جبکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بڑھانی ہے تو تیس منٹ کی تیز کارڈیو، جیسے سائیکلنگ، تیراکی، یا جاگنگ، زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر آپ کا مسئلہ دن بھر کسی ایک جگہ بیٹھے رہنا ہے تو دس ہزار قدم کا ہدف آپ کو بار بار اٹھنے اور چلنے پھرنے پر مجبور کر کے بیٹھنے کے نقصانات کو کم کرتا ہے۔

اس الجھن سے نکلنے کا بہترین اور سائنسی طور پر ثابت شدہ راستہ یہی ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا تکمیل کار بنایا جائے۔ مثال کے طور پر روزانہ آٹھ سے دس ہزار قدم کی بنیادی حرکت کو اپنے معمول کا حصہ بنا لیں، تاکہ دن بھر میں توانائی کا خرچ مسلسل جاری رہے، اور اس کے ساتھ ہفتے میں پانچ دن تیس منٹ تک تیز چال یا کارڈیو کا اہتمام کریں تاکہ دل اور نظام تنفس کو بہتر تربیت مل سکے۔ مزید برآں، ہفتے میں دو سے تین دن طاقت کی تربیت، یعنی وزن یا مزاحمت کی مشقیں بھی شامل کرنا نہ بھولیں، کیونکہ اس سے پٹھوں کی کمیت برقرار رہتی ہے جو آرام کی حالت میں بھی زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہے۔

مگر ان تمام مشقوں اور سرگرمیوں سے پہلے ایک بنیادی حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وزن کم کرنے کا سب سے اہم اصول کیلوریز کی کمی ہے، یعنی آپ جو کیلوریز کھاتے ہیں اس سے زیادہ جلائیں۔ کوئی بھی ورزش، چاہے وہ دس ہزار قدم ہوں یا گھنٹے بھر کی کارڈیو، اس وقت تک مکمل طور پر کارگر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک آپ اپنی خوراک اور غذائی عادات پر پوری توجہ نہ دیں۔ لہذا کامیاب ترین منصوبہ وہی ہوگا جس میں روزانہ کی حرکت، منظم ورزش، اور متوازن غذا تینوں کو یکساں اہمیت دی جائے، کیونکہ یہ تینوں ستون مل کر ہی آپ کو صحت مند اور پائیدار وزن میں کمی عطا کر سکتے ہیں۔

21/04/2026

سینے کی بیماریوں میں بہترین کوالٹی کے ایکسرے کی اہمیت کئی اہم پہلوؤں پر مبنی ہے۔ پہلا، یہ درست تشخیص کے لیے ضروری ہے کیونکہ واضح تصاویر پھیپھڑوں، دل اور ہڈیوں کی معمولی تبدیلیاں بھی ظاہر کر دیتی ہیں۔ دوسرا، یہ نمونیا، تپ دق یا پھیپھڑوں کے کینسر جیسی بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بروقت علاج ممکن ہو جاتا ہے۔ تیسرا، کم معیار کے ایکسرے کی نسبت یہ غلط تشخیص سے بچاتا ہے، کیونکہ دھندلاپن یا مصنوعی نشانات کی وجہ سے معمولی انفیکشن بھی نظر انداز ہو سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ، اعلیٰ معیار کے ایکسرے علاج کے اثرات کی مؤثر نگرانی فراہم کرتے ہیں، جس سے ڈاکٹر بیماری میں بہتری یا بگاڑ کا درست جائزہ لے سکتے ہیں۔ آخر میں، اگر سرجری یا بایوپسی ضروری ہو تو یہ سرجن کو درست راہنمائی دیتے ہیں۔ لہٰذا، جدید ڈیجیٹل ریڈیوگرافی سے لیا گیا ہائی ریزولیوشن ایکسرے سینے کی بیماریوں کے مؤثر انتظام کے لیے ناگزیر ہے۔

21/04/2026

پلمونری ہائیڈیٹڈ لنگ ڈیزیز (Pulmonary Hydatid Disease)

تعارف

پلمونری ہائیڈیٹڈ بیماری ایک پیراسیٹک انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں میں ایکینوکوکس گرینولوسس (Echinococcus granulosus) نامی ٹیپ ورم کے لاروا (hydatid cyst) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری دنیا بھر میں خاص طور پر چرواہے علاقوں (جیسے پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوبی امریکہ) میں پائی جاتی ہے۔

وجوہات اور طریقہ انتقال

یہ کیڑا عام طور پر کتوں (definitive host) اور بھیڑوں، بکریوں یا مویشیوں (intermediate host) کے درمیان پھیلتا ہے۔ انسان غلطی سے intermediate host بن جاتا ہے جب وہ کتے کے فضلے میں موجود انڈے کھا لیتا ہے (آلودہ سبزیاں، پانی، یا براہ راست رابطے سے)۔ انڈے آنتوں میں نکلتے ہیں، لاروا خون کے ذریعے پھیپھڑوں (اور کبھی جگر) تک پہنچتا ہے اور وہاں سست رفتار سسٹ بنا لیتا ہے۔

علامات (Symptoms)

ابتدائی مراحل میں کوئی علامات نہیں ہوتیں۔ جیسے جیسے سسٹ بڑھتا ہے، یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

· کھانسی (خشک یا بلغم والی)
· سانس کی قلت (خاص طور پر مشقت کے بعد)
· سینے میں درد (ہلکا سے شدید)
· کبھی کبھار خون والی کھانسی (hemoptysis)
· بخار اور الرجک رد عمل (اگر سسٹ پھٹ جائے)

اگر سسٹ پھٹ جائے تو اچانک شدید کھانسی، سانس بند ہونا، جلد پر دھبے (urticaria) اور یہاں تک کہ anaphylactic shock ہو سکتا ہے۔

تشخیص (Diagnosis)

· ایکس رے یا CT اسکین: پھیپھڑوں میں گول، صاف کناروں والا سسٹ نظر آتا ہے۔
· الٹراساؤنڈ: سینے کی دیوار کے قریب سسٹ کے لیے۔
· خون کے ٹیسٹ: ELISA یا Western blot سے اینٹی باڈیز کی جانچ۔
· فائن سوئی ایسپریشن (خطرناک ہو سکتا ہے – anaphylaxis کا امکان)

علاج (Treatment)

1. جراحی (Surgery) – بنیادی علاج۔ سسٹ کو بغیر پھاڑے نکالنا (cystectomy) یا پوری لو ب نکالنا (lobectomy)۔
2. دوائیں – البینڈازول (Albendazole) یا میبینڈازول (Mebendazole) اکثر سرجری سے پہلے اور بعد دی جاتی ہیں تاکہ دوبارہ ہونے سے بچا جا سکے۔
3. PAIR طریقہ (Puncture, Aspiration, Injection, Re-aspiration) – کبھی کبھار غیر جراحی طریقہ، لیکن پھیپھڑوں میں کم استعمال ہوتا ہے۔

روک تھام (Prevention)

· کتوں کو کیڑے مار دوائیں باقاعدہ دیں۔
· کتوں کے فضلے سے رابطے سے بچیں۔
· سبزیاں اور پانی اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔
· ذبح شدہ جانوروں کے بیمار اعضاء کتوں کو نہ ڈالیں۔

خلاصہ

پلمونری ہائیڈیٹڈ بیماری ایک نظر انداز کی جانے والی مگر سنگین بیماری ہے۔ بروقت تشخیص اور سرجری کے ذریعے مکمل علاج ممکن ہے۔ آگاہی اور حفظان صحت اس بیماری سے بچاؤ کی بہترین کنجی ہیں۔

20/04/2026
10/04/2026

Performing Thoracoscopy atJasmine Hospital Timergara.

10/04/2026

Performing chest tube thoracostomy .

Address

Timurgara
18300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr. Ashfaq ur Rehman Chest &TB Clinic:

Shortcuts

Share