Dr Shoukat Gul Rind

Website

Dr Shoukat Gul Rind Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Shoukat Gul Rind, Medical and health, Alghaffar medical center Near Khosa Masjid Langho Road Ubauro, Ubauro.

Well Qualified & experienced Physician in ubauro with more than 10 years of experience
qualification:MBBS RMP MCPS (family medicine)
with additional certificates in Diabetes,Rheumatology and Male Gender Health

هڪ ٻيو ڏينهن، هڪ ٻي او پي ڊي…ميڊيسن منھنجي لاء ھڪ پيشو نہ بلڪہ عبادت وانگر آھيجنھن لاء جيترو ٿي سگھي عبادت سمجھي ڪيان پي...
26/09/2026

هڪ ٻيو ڏينهن، هڪ ٻي او پي ڊي…
ميڊيسن منھنجي لاء ھڪ پيشو نہ بلڪہ عبادت وانگر آھي
جنھن لاء جيترو ٿي سگھي عبادت سمجھي ڪيان پيو
پر ڪڏھن ڪڏھن فرسٽيٽ ٿي پوندو آھيان جڏھن مريض ۽ ان جا رشتيدار ٻڌڻ بجائي پنھنجي من مستي ڪندا آھن
اسان جيڪا قسم کڻندا آھيون ان ۾ مريض جو نقصان نہ ڪرڻ ھڪ اھم جزو آھي جيڪو ھر ڏينھن گورنمنٽ او پي ڊي ۾ چيلنج ٿئي ٿو
ريسورس جو گھٽ ھجڻ مس مينيجمنٽ ۽ بيوروڪريٽڪ ڌٻاء کي ھڪ پاسي رکجي تہ مريض جو پنھنجي صحت بابت غير سنجيدہ رويو ٻئي پلڙي ۾ برابر ٿي بيھي ٿو
اھڙي غير سنجيدہ ماحول ۾ سنجيدہ ٿي ڪم ڪرڻ ھڪ وڏي ذھني جدوجھد آھي
پوسٽنگ کي لڳ ڀڳ 8 مھينہ ٿي چڪا آھن ان 8 مھينن ۾ ھر روز ھر مريض سان ساڳي مٿو ماري
ان جو نتيجو بہ نڪتو آھي ڀلي 5-6 % ئي صحيح پر ماڻھو سمجھيا آھن جيڪي پراپر فالو اپ بہ ڪرائين ٿا ۽ پراپر علاج بہ
پر اڪثريت اڄ بہ انھن جي ئي آھي جيڪي ھر بيماري جو علاج بس انجيڪشن ئي سمجھن ٿا
Dr Shoukat Gul Rind
MBBS MCPS (family medicine)

13/09/2026

ھڪ تمام سينئر بزرگ ڊاڪٽر سان اھڙو ورتائو
اسان وٽ روز او پي ڊي اھڙا مريض ايندا آھن
ھر اھو ماڻھو جنھن کي گھر ۾ٻيون دفعو ڀاڄي بہ ناھي ملندي اھو بہ ڊاڪٽر تي ڪاوڙيو ٿو اچي
اھا ھر روز جي ڳالھ آھي

11/09/2026
its not just my profession its my passion and soul
08/09/2026

its not just my profession its my passion and soul

🐕 کتے نے کاٹ لیا؟ گھبرائیں نہیں، لیکن دیر بھی نہ کریں۔سب سے پہلے زخم کو صابن اور بہتے پانی سے کم از کم پندرہ منٹ تک اچھی...
04/09/2026

🐕 کتے نے کاٹ لیا؟ گھبرائیں نہیں، لیکن دیر بھی نہ کریں۔

سب سے پہلے زخم کو صابن اور بہتے پانی سے کم از کم پندرہ منٹ تک اچھی طرح دھوئیں۔ 🧼

❌ مرچ، ہلدی، راکھ، تیل یا کوئی دیسی چیز نہ لگائیں۔
❌ زخم کو جلائیں، کاٹیں یا چوسنے کی کوشش نہ کریں۔

اس کے بعد فوراً قریبی ہسپتال یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ 💉

زخم چھوٹا ہو تب بھی ریبیز کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
کتے کے علاوہ بلی، بندر یا کسی مشتبہ جانور کے کاٹنے یا جلد پھٹنے والی خراش کو بھی نظر انداز نہ کریں۔

ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ہوتی ہے، لیکن بروقت حفاظتی ٹیکوں اور مناسب علاج سے اس سے بچا جا سکتا ہے۔

👉 پندرہ منٹ زخم دھوئیں، پھر فوراً ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

یہ پیغام آگے ضرور پہنچائیں، شاید آپ کی ایک شیئر کسی کی جان بچا دے۔

Dr Shoukat Gul Rind
MBBS MCPS

03/09/2026

😀

جب علاج ایک مطالبہ بن جائےاو پی ڈی ڈائری — ایک ڈاکٹر کی نظر سےاُباڑو جیسے شہر میں، جہاں لوگوں کو برسوں سے عطائیوں، غیر م...
02/09/2026

جب علاج ایک مطالبہ بن جائے

او پی ڈی ڈائری — ایک ڈاکٹر کی نظر سے

اُباڑو جیسے شہر میں، جہاں لوگوں کو برسوں سے عطائیوں، غیر معیاری علاج اور بعض اوقات خود طبی نظام کی غلطیوں کا سامنا رہا ہو، وہاں معیاری طب کی طرف واپسی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں، ایک سماجی جنگ بن چکی ہے۔

یہاں ہلکی سی پانی کی کمی ہو تو ڈرِپ چاہیے۔

درد ہو تو انجیکشن چاہیے۔

بخار ہو تو "طاقتور دوا" چاہیے۔

اور اگر ڈاکٹر کہہ دے کہ نہ ڈرِپ کی ضرورت ہے، نہ انجیکشن کی، نہ سٹیرائڈ کی—بلکہ مناسب تشخیص، خوراک، آرام، ورزش، وزن میں کمی یا طرزِ زندگی میں تبدیلی کی ضرورت ہے—تو مریض کو لگتا ہے کہ شاید ڈاکٹر نے علاج ہی نہیں کیا۔

ہم نے علاج کو شفا سے نکال کر فوری آرام تک محدود کر دیا ہے۔

اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب مریض علاج کروانے نہیں، اپنی مرضی کا علاج کروانے آتا ہے۔

یہ فرق معمولی نہیں۔

یہ پورے طبی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

---

(THQ) اُباڑو کا ایک عام دن

او پی ڈی کا وقت شروع ہوتے ہی دروازے کے باہر ہجوم جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ایک طرف مریض، دوسری طرف تیماردار۔

ہر شخص کو جلدی ہے۔

ہر شخص سمجھتا ہے کہ اس کی باری پہلے آنی چاہیے۔

ڈاکٹر کے لیے سب سے اہم چیز—مریض کی مکمل تاریخِ مرض اور جسمانی معائنہ—رفتہ رفتہ ایک عیاشی بنتی جا رہی ہے۔

آپ ایک مریض سے پانچ منٹ بات کر لیں تو باہر سے آواز آتی ہے:

"ڈاکٹر صاحب! اتنی دیر کیوں لگا رہے ہیں؟"

اور اگر کسی مریض کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ ہر درد کا جواب انجیکشن نہیں، ہر کمزوری کا جواب ڈرِپ نہیں اور ہر بیماری کا حل سٹیرائڈ نہیں، تو اگلا جملہ اکثر یہی ہوتا ہے:

"پھر ڈاکٹر کے پاس آنے کا فائدہ کیا؟"

یہاں سے مسئلہ شروع ہوتا ہے۔

کیونکہ مریض مشورہ نہیں، فوری نتیجہ چاہتا ہے۔

اور ڈاکٹر جانتا ہے کہ بعض اوقات فوری نتیجہ ہی مستقبل کی بیماری کی بنیاد بن سکتا ہے۔

---

پھر ایک دن وہ دوبارہ آیا

کچھ دن پہلے ایک شخص میری او پی ڈی میں آیا۔

اس کی ایک ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے کٹی ہوئی تھی۔

میں اس وقت ایک مریض کا معائنہ کر رہا تھا۔ میری نظر اس شخص پر پڑی تو میں نے اسے پہلے اندر بلایا۔

اس کا معائنہ کیا۔

ادویات دیں۔

اور ساتھ واضح طور پر لکھا کہ آرتھوپیڈک سرجن سے رائے ضرور لی جائے۔

مجھے لگا کہ شاید معاملہ ختم ہو گیا۔

لیکن کچھ ملاقاتیں ختم نہیں ہوتیں، صرف اگلے منظر کا انتظار کرتی ہیں۔

چند دن بعد او پی ڈی اپنے عروج پر تھی۔

مریضوں کا ہجوم۔

دروازے پر دھکم پیل۔

عملہ مسلسل کام میں مصروف۔

اور پھر اچانک—

دروازہ زور سے کھلا۔

اتنی شدت سے کہ دروازے پر موجود شخص ایک طرف جا گرا۔

اور ایک شخص غصے سے اندر داخل ہوا۔

چہرے پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔

پھر وہ تقریباً چیخا:

"ڈاکٹر! آپ کی دوا کام نہیں کر رہی!"

چند لمحے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کون ہے۔

پھر میں نے پہچان لیا۔

وہی مریض۔

میں نے دوبارہ اس کی بات سنی، دوبارہ معائنہ کیا اور اس مرتبہ اسے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آرتھوپیڈک معائنے کے لیے ریفر کر دیا۔

وہاں کٹی ہوئی ٹانگ کے آخری حصے کے مسئلے کی مزید جانچ ضروری تھی۔

اس نے پوچھا:

"وہاں کون سا سرجن ہے؟ نام کیا ہے؟"

میں نے جواب دیا:

"بھائی، مجھے وہاں موجود ڈاکٹر کا نام معلوم نہیں۔ آپ ڈی ایچ کیو جا کر ہڈیوں کے ڈاکٹر کے بارے میں پوچھ لیں، جو متعلقہ ڈاکٹر موجود ہوگا وہ آپ کو دیکھ لے گا۔"

بس۔

یہ جملہ شاید اسے پسند نہیں آیا۔

اس کا لہجہ مزید سخت ہو گیا۔

میں نے کہا:

"براہِ کرم یہاں ہنگامہ نہ کریں۔ آپ چلے جائیں۔"

اس نے جاتے جاتے ایک ایسا جملہ کہا جسے میں آج تک نہیں بھولا:

"آپ نہیں جانتے میں کیا کر سکتا ہوں۔ میری ٹانگ پولیس نے خراب کی ہے، میں خطرناک آدمی ہوں۔"

وہ جسمانی حملے کے قریب تھا۔

دوسرے مریضوں نے بیچ بچاؤ کیا اور اسے باہر لے گئے۔

میں نے پولیس نہیں بلائی۔

انتظامیہ کو بھی اطلاع نہیں دی۔

میں نے سوچا:

یہ شخص معذور ہے۔ شاید زندگی سے تنگ ہے۔ شاید غصے میں ہے۔ شاید اس کے ساتھ بہت کچھ غلط ہوا ہے۔

میں نے اسے نظر انداز کر دیا۔

شاید یہی میری غلطی تھی۔

---

دوپہر کے دو بجے

او پی ڈی ختم ہو چکی تھی۔

میں رجسٹر مکمل کر رہا تھا۔

اور پھر وہ دوبارہ آیا۔

اس مرتبہ اکیلا نہیں تھا۔

دو اور افراد اس کے ساتھ تھے۔

وہ اندر آیا اور بڑے اطمینان سے مجھے بتایا:

"میں نے آپ کے خلاف عدالت میں درخواست دے دی ہے۔"

میں نے کہا:

"ٹھیک ہے۔ عدالت میں ملاقات ہو جائے گی۔"

شاید اسے اندازہ ہو گیا کہ عدالت کا نام مجھے خوفزدہ نہیں کر رہا۔

پھر اس نے کہا کہ اس کی ڈریسنگ کرنی ہے۔

میں نے بتایا:

"او پی ڈی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ آپ ایمرجنسی میں چلے جائیں، وہاں آپ کی ڈریسنگ ہو جائے گی۔"

جواب آیا:

"نہیں۔ آپ ہی کریں گے۔"

میں نے کہا:

"ٹھیک ہے بھائی، او پی ڈی کاؤنٹر پر رجسٹریشن کروا لیں اور واپس آ جائیں۔ میں دیکھ لیتا ہوں۔"

جواب:

"رجسٹریشن کی ضرورت نہیں۔ ابھی کرو۔"

اور پھر دھمکیاں شروع ہو گئیں۔

اس مرتبہ میں نے خاموش رہنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

پولیس بلائی گئی۔

سیکیورٹی کو اطلاع دی گئی۔

پولیس کے آنے کے بعد وہ شخص چلا گیا۔

---

لیکن اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی

کیونکہ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔

یہ صرف ایک دن نہیں۔

یہ وہ ماحول ہے جس میں بہت سے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر روزانہ کام کرتے ہیں۔

ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں۔

یہ ماننے میں کوئی عار نہیں۔

کبھی تشخیص غلط ہو سکتی ہے۔

کبھی دوا کام نہیں کرتی۔

کبھی مریض کو مناسب وقت نہیں ملتا۔

کبھی ڈاکٹر کا رویہ بھی نامناسب ہو سکتا ہے۔

اور جہاں ڈاکٹر غلط ہو، وہاں شکایت ہونی چاہیے۔

ضرور ہونی چاہیے۔

مریض کو شکایت کا حق ہے۔

لیکن—

ڈاکٹر کو دھمکی دینے کا حق کسی کو نہیں۔

شکایت اور دھمکی دو مختلف چیزیں ہیں۔

احتجاج اور تشدد دو مختلف چیزیں ہیں۔

عدالت سے رجوع کرنا قانونی حق ہے۔

عدالت کا نام لے کر کسی ڈاکٹر کو خوفزدہ کرنا اس حق کا حصہ نہیں۔

---

مسئلہ صرف مریض کا نہیں، ہماری سوچ کا بھی ہے

ہم نے ایک عجیب تصور بنا لیا ہے کہ انجیکشن، ڈرِپ اور سٹیرائڈ = اچھا علاج۔

گولی دی جائے تو لگتا ہے ڈاکٹر نے کچھ کیا ہی نہیں۔

غذا بدلنے کو کہا جائے تو کہتے ہیں:

"یہ تو ہم خود بھی کر سکتے تھے۔"

ورزش کا مشورہ دیا جائے تو کہتے ہیں:

"کوئی دوا بتائیں۔"

وزن کم کرنے کا کہا جائے تو جواب ملتا ہے:

"کوئی ایسی دوا نہیں جو جلدی وزن کم کر دے؟"

بلڈ پریشر کی دوا کے ساتھ نمک کم کرنے کو کہا جائے تو مریض دوا لے لیتا ہے، نمک نہیں چھوڑتا۔

ذیابیطس میں خوراک اور وزن پر بات کریں تو مریض کو لگتا ہے ڈاکٹر علاج نہیں کر رہا۔

ہم فوری آرام کے عادی ہو چکے ہیں۔

لیکن طب کا اصول فوری آرام سے کہیں بڑا ہے:

علاج صرف علامت کو دبانا نہیں، بیماری کو سمجھنا بھی ہے۔

---

ڈاکٹر مریض کی ہر خواہش پوری کرنے والا شخص نہیں

یہ بات شاید سخت لگے، مگر کہنی ضروری ہے۔

ڈاکٹر کا کام مریض کی فرمائش پوری کرنا نہیں، مریض کے لیے درست طبی فیصلہ کرنا ہے۔

اگر ڈرِپ کی ضرورت نہیں تو ڈرِپ نہیں لگنی چاہیے۔

اگر انجیکشن کی ضرورت نہیں تو انجیکشن نہیں لگنا چاہیے۔

اگر سٹیرائڈ نقصان دہ ہو سکتا ہے تو صرف مریض کو خوش کرنے کے لیے سٹیرائڈ نہیں دینا چاہیے۔

اگر کسی ماہر کی ضرورت ہے تو مریض کو ریفر کرنا ڈاکٹر کی ناکامی نہیں۔

کبھی کبھی "نہیں" کہنا ہی اچھا علاج ہوتا ہے۔

---

مگر ایک سوال ہم ڈاکٹروں سے بھی

اگر ہم مریض سے احترام چاہتے ہیں تو ہمیں بھی مریض کو احترام دینا ہوگا۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ مریض ہماری بات سنے تو ہمیں بھی اس کی بات سننی ہوگی۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ غیر ضروری انجیکشن کا مطالبہ نہ کریں تو ہمیں انہیں سمجھانا ہوگا کہ کیوں نہیں۔

اور اگر سرکاری ہسپتال میں مریضوں کا سیلاب ہے تو یہ صرف ڈاکٹر کا مسئلہ نہیں۔

یہ نظام کا مسئلہ ہے۔

ایک ڈاکٹر سے سیکڑوں مریض دیکھنے، مکمل تاریخ لینے، معائنہ کرنے، تشخیص کرنے، نسخہ لکھنے، سمجھانے اور پھر ہر مریض کو مطمئن کرنے کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔

ہمیں بہتر نظام چاہیے۔

زیادہ عملہ چاہیے۔

مناسب سہولیات چاہیے۔

شکایات کا مؤثر نظام چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر—

اعتماد چاہیے۔

---

اگلی بار جب آپ ڈاکٹر کے خلاف خبر دیکھیں

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو آئے۔

کسی مریض کی طرف سے ایک شکایت سامنے آئے۔

اخبار میں سرخی لگے:

"ڈاکٹر نے مریض کا علاج نہیں کیا۔"

تو فوراً فیصلہ نہ کریں۔

ایک لمحے کے لیے رکیں۔

سوچیں:

کہانی کا دوسرا رخ کیا ہے؟

ہو سکتا ہے ڈاکٹر نے انجیکشن اس لیے نہ لگایا ہو کیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔

ہو سکتا ہے مریض کو اس لیے ریفر کیا گیا ہو کیونکہ مسئلہ اس ڈاکٹر کی حدود سے باہر تھا۔

ہو سکتا ہے ڈاکٹر کے سامنے پہلے ہی سیکڑوں مریض موجود ہوں۔

ہو سکتا ہے وہ ڈاکٹر اس دن کئی بار گالیاں اور دھمکیاں سن چکا ہو۔

اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر واقعی غلط ہو۔

اسی لیے تحقیق ضروری ہے، فیصلہ نہیں۔

میڈیا کا کام صرف ایک فریق کی آواز بلند کرنا نہیں۔

عوام کا کام صرف ایک ویڈیو دیکھ کر فیصلہ سنانا نہیں۔

اور ڈاکٹر کا کام بھی اپنی غلطی کو ہمیشہ مریض کے رویے کے پیچھے چھپا دینا نہیں۔

---

آخر میں صرف ایک گزارش

ہم ڈاکٹر ہیں۔

خدا نہیں۔

ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

ہمیں جواب دہ ہونا چاہیے۔

لیکن ہمیں انسان بھی سمجھا جائے۔

ہم مریضوں کا علاج کرنے آتے ہیں، جنگ کرنے نہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مریض صحت مند ہو کر گھر جائے۔

لیکن اگر ہر روز ہمیں یہ خوف ہو کہ:

"اگر میں نے مریض کی مرضی کے مطابق انجیکشن نہیں لگایا تو کیا وہ مجھے مارے گا؟"

تو مسئلہ صرف ایک ڈاکٹر کی حفاظت کا نہیں رہتا۔

پھر پورا نظامِ صحت بیمار ہو جاتا ہے۔

اور شاید ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں مریض اپنی مرضی کا علاج خریدنے آئے—

یا ایسا نظام جہاں ڈاکٹر اور مریض مل کر صحیح علاج کا فیصلہ کریں۔

کیونکہ علاج ایک حق ضرور ہے۔

مگر علاج کو ایک مطالبہ بنا دینا—

اور ڈاکٹر کو اس مطالبے کا تابع سمجھ لینا—

صحت کے نظام کی تباہی کا آغاز ہے۔

یہ ہماری طرف کی کہانی ہے۔

اگلی بار جب آپ سوشل میڈیا، الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا پر کسی ڈاکٹر کے خلاف کچھ پڑھیں—

ایک لمحے کے لیے رکیں۔

فیصلہ کرنے سے پہلے پوری کہانی ضرور سنیں۔

کیونکہ ہر خبر میں ایک مریض کی آواز ہوتی ہے، لیکن ہر واقعے میں صرف ایک ہی فریق نہیں ہوتا۔

27/08/2026

سومر تائين او پي ڊي بند رھندي
اڱاري تي ٻيھر شروع ٿيندي
اپائنٽمنٽ ڪينسل ڪيون ويون آھن

Address

Alghaffar Medical Center Near Khosa Masjid Langho Road Ubauro
Ubauro

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Shoukat Gul Rind posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share