19/06/2026
آخر زمین سونے سے بھی مہنگی کیوں ہو گئی؟
پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں زمین اور گھروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، لیکن لاہور کی صورتحال تو حیران کن حد تک پہنچ چکی ہے۔ تاجپورہ، ہربنس پورہ جوڑے پل اور دیگر متوسط علاقوں میں ڈیڑھ مرلہ، دو مرلہ اور تین مرلہ کے چھوٹے سے گھر ایک کروڑ، سوا کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے؟
کیا اس زمین کے نیچے تیل نکلنے والا ہے؟ کیا یہاں ہیرے جواہرات دفن ہیں؟ یا کوئی ایسا خزانہ موجود ہے جس کی وجہ سے چند مرلوں کی جگہ کروڑوں میں بیچی جا رہی ہے؟
یہ وہی زمین ہے جسے ہم نے دہائیوں سے دیکھا ہے۔ نہ اس کی مٹی بدلی، نہ اس کا رنگ، نہ اس کی حقیقت۔ پھر آخر عام آدمی کی پہنچ سے اپنا گھر کیوں دور کر دیا گیا؟
ایک غریب مزدور، ایک ملازم، ایک بیوہ عورت یا ایک متوسط طبقے کا فرد ساری زندگی محنت کرتا ہے، بچت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے کہ ایک دن اپنا چھوٹا سا گھر ہوگا۔ مگر جب وہ قیمتیں سنتا ہے تو اس کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب گھر صرف امیروں کے لیے رہ گئے ہیں اور غریب نسل در نسل کرائے کے گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
حکومت کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ زمینوں کی مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور بے قابو پراپرٹی مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر آج بھی اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لیے اپنا گھر بنانا صرف ایک خواب رہ جائے گا۔
عوام پوچھتی ہے: کیا چھوٹے سے گھر کا مالک بننا اب صرف دولت مندوں کا حق رہ گیا ہے؟
حکومت سے گزارش ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسان ہاؤسنگ پالیسی، سستے قرضے اور زمین کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کیونکہ ایک چھت صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا نام نہیں، بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق اور عمر بھر کا خواب ہوتی ہے۔