Yasmin Sahar

Yasmin Sahar I'm Yoga instructor, palmiest and astrologist. You can ask me related questions about yoga and your Stars.

آخر زمین سونے سے بھی مہنگی کیوں ہو گئی؟پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں زمین اور گھروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہی...
19/06/2026

آخر زمین سونے سے بھی مہنگی کیوں ہو گئی؟
پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں زمین اور گھروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، لیکن لاہور کی صورتحال تو حیران کن حد تک پہنچ چکی ہے۔ تاجپورہ، ہربنس پورہ جوڑے پل اور دیگر متوسط علاقوں میں ڈیڑھ مرلہ، دو مرلہ اور تین مرلہ کے چھوٹے سے گھر ایک کروڑ، سوا کروڑ اور ڈیڑھ کروڑ روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہے؟
کیا اس زمین کے نیچے تیل نکلنے والا ہے؟ کیا یہاں ہیرے جواہرات دفن ہیں؟ یا کوئی ایسا خزانہ موجود ہے جس کی وجہ سے چند مرلوں کی جگہ کروڑوں میں بیچی جا رہی ہے؟
یہ وہی زمین ہے جسے ہم نے دہائیوں سے دیکھا ہے۔ نہ اس کی مٹی بدلی، نہ اس کا رنگ، نہ اس کی حقیقت۔ پھر آخر عام آدمی کی پہنچ سے اپنا گھر کیوں دور کر دیا گیا؟
ایک غریب مزدور، ایک ملازم، ایک بیوہ عورت یا ایک متوسط طبقے کا فرد ساری زندگی محنت کرتا ہے، بچت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے کہ ایک دن اپنا چھوٹا سا گھر ہوگا۔ مگر جب وہ قیمتیں سنتا ہے تو اس کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب گھر صرف امیروں کے لیے رہ گئے ہیں اور غریب نسل در نسل کرائے کے گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
حکومت کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ زمینوں کی مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور بے قابو پراپرٹی مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر آج بھی اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لیے اپنا گھر بنانا صرف ایک خواب رہ جائے گا۔
عوام پوچھتی ہے: کیا چھوٹے سے گھر کا مالک بننا اب صرف دولت مندوں کا حق رہ گیا ہے؟
حکومت سے گزارش ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسان ہاؤسنگ پالیسی، سستے قرضے اور زمین کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ کیونکہ ایک چھت صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا نام نہیں، بلکہ ہر انسان کا بنیادی حق اور عمر بھر کا خواب ہوتی ہے۔

14/06/2026
🚨 ہنگامی اطلاع | سکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مسافروں کی شدید مشکلات 🚨سکردو میں ایئرپورٹ کے قریب سکردو روڈ پر لینڈ سل...
02/06/2026

🚨 ہنگامی اطلاع | سکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مسافروں کی شدید مشکلات 🚨
سکردو میں ایئرپورٹ کے قریب سکردو روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک افسوسناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مسافر اور شہری گزشتہ دو دن سے راستہ بند ہونے کی وجہ سے وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔
صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ متاثرہ افراد کے پاس موبائل فونز کی چارجنگ ختم ہو چکی ہے، رابطے منقطع ہیں، اور خوراک و پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مسلسل وقت گزرنے کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اہم اپیل:
ریسکیو ادارے، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ امدادی ٹیموں سے فوری درخواست کی جاتی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے راستہ کلیئر کیا جائے اور پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ سکردو کے مقامی ہوٹل مالکان، رضاکار تنظیموں اور صاحبِ استطاعت افراد سے بھی اپیل ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت فوری امداد فراہم کریں—خصوصاً کھانا، پانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کریں۔
یہ وقت رسمی کارروائیوں کا نہیں بلکہ فوری اور عملی مدد کا ہے۔ ہر لمحہ قیمتی ہے۔
⚠️ براہ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ متعلقہ اداروں تک آواز پہنچ سکے۔

گیس کا شیڈول عوام کی ضرورت کے مطابق بنایا جائےعید کے تین دن تک گیس مسلسل آتی رہی۔ ہر گھر میں چولہے جلتے رہے، کھانے پکتے ...
01/06/2026

گیس کا شیڈول عوام کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے

عید کے تین دن تک گیس مسلسل آتی رہی۔ ہر گھر میں چولہے جلتے رہے، کھانے پکتے رہے اور کسی کو کوئی شکایت نہ تھی۔ مگر جونہی عید ختم ہوئی اور بچوں کی گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوئیں، گیس کی بندش نے ایک بار پھر گھریلو زندگی کو مشکل بنا دیا۔

صبح 9 بجے گیس بند ہو جاتی ہے اور 12 بجے واپس آتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بچے جاگ چکے ہوتے ہیں، ناشتہ مانگ رہے ہوتے ہیں، کوئی چائے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور کوئی روٹی کا۔ مائیں بے بسی سے بچوں کو تسلی دیتی ہیں کہ تھوڑی دیر اور انتظار کرو، مگر بھوک انتظار نہیں کرتی۔

ہم پوچھتے ہیں کہ آخر ایسا شیڈول کس ضرورت کے تحت بنایا گیا ہے؟ کیا متعلقہ حکام نے کبھی سوچا ہے کہ چھٹیوں میں بچوں کی خوراک، مہمانوں کی آمد، اور گھر کے روزمرہ کام کس طرح انجام دیے جاتے ہیں؟

ہماری گزارش ہے کہ صبح کی گیس کم از کم دوپہر 2 بجے تک فراہم کی جائے تاکہ لوگ سکون سے ناشتہ اور دوپہر کا کھانا تیار کر سکیں۔ اس کے بعد اگر ضرورت ہو تو لوڈ مینجمنٹ کی جا سکتی ہے، لیکن صبح کے اہم ترین اوقات میں گیس بند کرنا عوام کو پریشانی میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔

قربانی کے بعد کے دنوں میں گھروں میں پائے، سری، نہاری اور دیگر روایتی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ کھانے چند منٹوں میں نہیں بنتے بلکہ گھنٹوں مانگتے ہیں۔ دو گھنٹے کی گیس میں ایسے پکوان بنانا تقریباً ناممکن ہے۔

یہ ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ پھر بھی اگر عوام صبح کے ناشتے اور شام کے کھانے کے لیے بوند بوند گیس کو ترس رہی ہے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔

ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ عوامی مشکلات کو سمجھا جائے، گیس کے موجودہ شیڈول پر نظرثانی کی جائے اور ایسا نظام بنایا جائے جو عوام کی بنیادی ضروریات کے مطابق ہو۔

اگر آپ بھی اس مسئلے سے متاثر ہیں تو اپنی آواز بلند کریں۔ شاید ایک آواز نہ سنی جائے، لیکن ہزاروں آوازیں نظرانداز نہیں کی جا سکتیں۔






#پاکستان


(کالام سوات) چند دنوں سے ایک واقعے نے بہت زیادہ بحث کو جنم دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے بات ایک واقعے سے نکل کر پنجاب اور پ...
14/05/2026

(کالام سوات)
چند دنوں سے ایک واقعے نے بہت زیادہ بحث کو جنم دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے بات ایک واقعے سے نکل کر پنجاب اور پختون بھائیوں کے درمیان بحث تک جا پہنچی۔ دل سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ نہ میرا مقصد کسی علاقے کی بدنامی تھا اور نہ ہی کسی قوم کی دل آزاری۔
میں نے ہمیشہ سوات کو
پروموٹ کیا اگر آج میں نے آواز اٹھائی ہے تو کوئی غلط نہیں کیا
کسی سیاح کے ساتھ غلط ہوا تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری تھا، کیونکہ خاموشی کبھی مسئلے کا حل نہیں بنتی۔ لیکن آج مجھے کالام کے بہت سے مقامی لوگوں اور جیپ ڈرائیور بھائیوں کے واٹس ایپ پر
پیغامات ملے، جنہوں نے یاد دلایا کہ مشکل وقتوں میں انہوں نے سیاحوں کا ساتھ دیا، حادثات میں لوگوں کی جانیں بچائیں، سیلاب میں اپنے گھر اور اپنے دروازے کھولے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب میں ہمارے پختون بھائی سالوں سے رہ رہے ہیں، کاروبار کر رہے ہیں، روزگار کما رہے ہیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔
اس لیے میری سب سے درخواست ہے کہ چند لوگوں کی غلطی کو پوری قوم، پورے علاقے یا پورے شہر سے نہ جوڑا جائے۔ نفرت بہت آسانی سے پھیلتی ہے، لیکن محبت اور اعتماد بنانے میں وقت لگتا ہے۔
غلطی جہاں ہوئی وہاں اصلاح ہونی چاہیے، مگر رشتے ٹوٹنے نہیں چاہئیں۔ محبت رہے گی تو سیاحت بھی رہے گی، روزگار بھی رہے گا اور دل بھی جڑے رہیں گے۔ ❤️

#کالام #سوات

#پنجاب
#اسلام آباد

Address

Exit 5
Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yasmin Sahar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share