10/09/2026
میرا نام ستارہ سلیم ہے۔ میں RHC راولپنڈی میں ایک نرس ہوں۔ میرا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ رات 2 بجے سرکاری ہسپتال کے میل وارڈ میں ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر تھی۔
میں فی میل وارڈ میں مدد کرنے کے لیئے ایک مریض کو ڈرپ لگانے گئی تو وہاں رش بہت زیادہ تھا۔ ہسپتال کے رولز کے مطابق میں نے اٹینڈنٹس سے مہذب انداز میں کہا کہ "پلیز رش کم کریں یہاں زیادہ لوگ الاؤ نہیں ہیں "۔
بس یہی بات ان کو ناگوار گزری۔ مجھ پر حملہ کیا گیا۔ مجھے مارا گیا۔ مجھے گھسیٹ کر دوسرے وارڈ میں لے جایا گیا۔ وہاں میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
گارڈز کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ کوئی مدد کو نہ آیا۔
میں نے خود کو بچانے کے لیے 15 پر 3-4 بار کال کی۔ پولیس گھنٹوں بعد آئی۔ اور آ کر بھی کہا "یہ فی میل کا کیس ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ایپلیکیشن لکھ کر لائیں"۔
صبح تک ہسپتال کی انتظامیہ کا کوئی سینئر بندہ نہیں آیا۔ جب میرے کولیگز نے احتجاج کیا تب جا کر FIR درج ہوئی۔ لیکن وہ FIR بھی میرے بیان کے بغیر، میری مرضی کے بغیر لکھی گئی۔
اس کے بعد 6 گھنٹے تک مجھے ایک کمرے میں بند رکھا گیا۔ میرا فون لے لیا گیا۔ مجھے کہا گیا "کیس دبا دو، ورنہ تمہاری عزت چلی جائے گی"۔
آج ہاسٹل میں بھی مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا ایک نرس کی جان، عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا ہسپتال جیسی جگہ پر بھی ہم محفوظ نہیں؟
کیا پولیس اور انتظامیہ کا کام صرف کاغذی کاروائی کرنا ہے؟
ہم دن رات عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ کیا ہمیں یہ صلہ ملے گا؟
میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کرتی ہوں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ مجھے اور میرے جیسے تمام ہیلتھ ورکرز کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ مجھے انصاف چاہیے۔
خاموشی ظلم کی حمایت ہے۔
براہ کرم اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ میری آواز حکام بالا تک پہنچے۔